چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وعدہ ہے اگر وزیر اعظم بنا تو کسی سے سیاسی انتقام نہیں لوں گا۔
تفصیلات کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے چنیوٹ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ نئے چہروں کو موقع دیا جائے، ہمیں عوام کی فکر ہے، ملک میں بڑھتی مہنگائی کی فکر ہے، انہیں فکر ہے کہ چوتھی بار کرسی پر کیسے آنا ہے، چنیوٹ میں کسی حکومت نے بھی مفت علاج کیلئے اسپتال نہیں بنایا، وعدہ کرتا ہوں ووٹ دیں تو میں 6 مہینے میں مفت علاج کا اسپتال بناؤں گا، میں بہانے نہیں خدمت کرنا چاہتا ہوں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہماری ذمےداری ہو گی نوجوانوں کو روزگار ملے، شہید بی بی نے اپنے دور میں نوجوانوں کو روزگار دیا، پاکستان جس مشکل میں ہے سب کو معلوم ہے، اس وقت تاریخی معاشی بحران سے گزر رہے ہیں، معاشی بحران کے ساتھ معاشرے میں بحران پیدا کیا گیا، پرانے سیاستدان عوام کی خدمت کے بجائےذاتی انتقام کی سیاست کر رہے ہیں، کسان خوشحال ہو گا تو ملک خوشحال ہو گا، کسان کارڈ لائیں گے اس سے مالی مدد پہنچائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کو اپنی فصل کی قیمت پیپلز پارٹی کے دور میں ملے گی، موقع ملا تو ملک بھر میں 30 لاکھ گھر بنا کر دوں گا، اپنے 10 نکاتی ایجنڈے پر خود عمل کروں گا، آپ سے یہ نہیں کہتا کہ میرے مخالف کو برا بھلا کہیں، پچھلی بار حکومت ملی تو انقلابی بےنظیر سپورٹ پروگرام شروع کیا، آپ اپنے منشور اور نظریے پر سیاست کریں، میری حکومت میں کوئی کارکن سیاسی قیدی نہیں ہو گا، ملک کو نفرت کی سیاست نے تقسیم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نفرت کی سیاست نے ہر ادارے کو تقسیم کیا، آپس کی نفرت کو ختم نہیں کرینگے تو ملک دشمن قوتیں پاکستان کو نقصان پہنچائیں گی، 18 ماہ وزیر خارجہ رہا جانتا ہوں ملک کے خلاف کیا کیا سازشیں ہو رہی ہیں، ہمیں موقع ملا تو سب کے ساتھ ملکر آگے بڑھیں گے، ملک میں غربت، بےروزگاری اور مہنگائی کے مسائل ہیں، انتقام کی سیاست کے بجائے صدر زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا، ہم اپنے منشور اور نظریے پر یقین رکھتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے جیالوں نے ہر دور کا ظلم برداشت کیا، ہم نے میاں صاحب کے دور کا ظلم برداشت کیا، ہم نے کبھی انتقام کی سیاست نہیں کی، پرانے سیاستدان اس وقت نفرت اور تقسیم کی سیاست کر رہے ہیں، یہ لوگ ذاتی انتقام کیلئے سیاست کر رہے ہیں، نقصان ملک کو ہو رہا ہے، نفرت اور تقسیم کی سیاست دفن کرنے کیلئے الیکشن لڑ رہا ہوں، ملک اس وقت جس مشکل میں ہے آپ سب کو معلوم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج ایک بار پھر چنیوٹ آیا ہوں، 2018 کے الیکشن کے سلسلے میں چنیوٹ کا دورہ کیا تھا، جو بھی موسم ہو چنیوٹ کے جیالے ہر بار بےمثال استقبال کرتے ہیں، حکومت بجلی کمپنیوں اور کھاد کمپنیوں کو سبسڈی دیتی مگر نہ بجلی ملتی نہ کھاد ملتی ہے، وہ سبسڈی کی رقم مالی امداد کے طور پر دلائیں گے، کسان کارڈ کے ذریعے انشورنس سے کسانوں کی فصلوں کا نقصان اٹھائیں گے، پی پی پی کو منتخب کریں ملک میں زرعی انقلاب لائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مزدوروں کیلئے بھی کارڈ لائیں گے، مزدور کارڈ سے محنت کشوں کو ان کا حق دلائیں گے، نوجوانوں کیلئے یوتھ کارڈ لے کر آئیں گے، نوجوان تعلیم مکمل کرتے ہیں ڈگریاں لے کر دھکے کھاتے ہیں روزگار نہیں ملتا، ہم 20 لاکھ پکے گھر سیلاب متاثرین کیلئے بنا رہے ہیں، خواتین کو مالکانہ حقوق بھی دلوا رہے ہیں، یہاں سیلاب آتے ہیں کبھی کسی نے گھر بنا کر دیا؟ ہمیں موقع دیں پاکستان میں 30 لاکھ گھر بنا کر خواتین کو مالکانہ حقوق دیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں تمام کچی آبادیوں کو ریگولائز کر کے مالکانہ حقوق دیں گے، اب حکومت ملی تو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اضافہ کریں گے، خواتین کو بلا سود قرضے دیں گے تاکہ معاشی کردار ادا کریں، چھوٹے کسانوں کو بے نظیر کسان کارڈ بنا کر ان کو حق دلائیں گے، کسانوں کو فصلوں کی قیمت پی پی پی حکومت میں ملے گی، حکومت سالانہ ایک ہزار پانچ سو ارب سبسڈی دیتی ہے یہ ظلم ہے۔
