Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ہند واڑا قتل عام کو 34 سال مکمل، متاثرین کو انصاف نہ مل سکا

مقبوضہ کشمیر میں ہند واڑا قتل عام کو 34 سال مکمل ہوگئے ہیں لیکن بھارتی سپریم کورٹ آج بھی ہندواڑہ قتل عام کے متاثرین کو انصاف نہیں دلواسکی ہے۔

کشمیر میں سال 1990 کا آغاز ہی کشمیریوں کے قتل عام سے ہوا، 25 جنوری 1990 کو ہندواڑا میں بھارتی فوجیوں نے نہتے کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلی اور پرامن احتجاج کر نے والے مظلوم کشمیریوں کو نشانہ بنایا۔

انتہا پسند بھارتی فوجیوں نے ہندواڑا کے مقام پر 30 سے زائد کشمیریوں کو بے دردی سے قتل اور 200 کو شدید زخمی کیا تھا۔

بھارتی فوج کے ہاتھوں قتل ہونے والے مظلوم کشمیری پْرامن احتجاج کر رہے تھے، ہندواڑا کے افسوسناک واقعے سے محض چار روز قبل گاوٴ کدل کا اندوہناک واقعہ پیش آیا تھا۔

کشمیری ابھی گاوٴ کدل کا سانحہ نہیں بھولے تھے کہ ہندواڑا میں بھارتی فورسز نے ظلم کی انتہا کر دی۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق بھارتی فوجیوں نے زخمی کشمیریوں کو طبی امداد پہنچانے کی بھی اجازت نہ دی، بھارتی حکومت نے ہندواڑا واقعے میں شہید اور زخمی ہونے والے کشمیریوں کی اصل تعداد کو بھی مخفی رکھا۔

بھارتی سپریم کورٹ 34 سال بعد بھی ہندواڑہ قتل عام کے متاثرین کو انصاف نہ دلا سکی، قتل عام کا مقصد غاصب بھارتی فوج کا اپنی بربریت پر پردہ ڈالنا اور پرامن کشمیری مسلمانوں کو خوفزدہ کرنا تھا۔

بھارتی حکومت نے ہندواڑا قتل عام سے بچنے کے لیے بھونڈی کوشش کرتے ہوئے ایف آئی آر تک درج نہ کرائی۔

بھارتی فوجیوں نے گزشتہ 34 برس میں 1 لاکھ سے زائد نہتے کشمیریوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا، ہندواڑا قتل عام کے متاثرین گزشتہ 34 سال سے انصاف کے منتظر ہیں جب کہ یہ قتل عام بھارت کے نام نہاد جمہوری چہرے پر طمانچہ ہے۔

متعلقہ خبریں