عالمی عدالت برائے انصاف نے غزہ میں نسل کشی کے حوالے سے اسرائیل کے خلاف مقدمہ نہ سننے کی اسرائیلی درخواست مسترد کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق عالمی عدالت انصاف اسرائیلی کی جانب سے کیس نہ سننے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ جینوسائیڈکنونشن کےتحت کیس سننےکااختیار ہے۔
عالمی عدالت برائے انصاف نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اسرائیل کےخلاف نسل کشی کیس خارج نہیں کریں گے اور اسرائیل کےخلاف فلسطینیوں کی نسل کشی کا مقدمہ چلے گا۔

عالمی عدالت کا کہنا تھا کہ غزہ میں مسلسل جانی نقصان باعث تشویش ہے اور اسرائیل کےخلاف جنوبی افریقہ کے مقدمہ پرکارروائی چلائی جا سکتی ہے۔
آئی سی جے نے کہا کہ عالمی عدالت کو جنوبی افریقہ کی درخواست سننے کا اختیار ہے.
عالمی عدالت کا کہنا تھا کہ 7 کتوبر کے بعدغزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے غزہ میں اسپتالوں پر حملے کئے گئے ہیں۔
عالمی عدالت کے فیصلے میں کہا گیا کہ 100 دن گزرنے کے بعد بھی غزہ میں قتل عام جاری ہے۔
غزہ کی 20 لاکھ آبادی نفسیاتی اورجسمانی تکالیف میں مبتلا ہے اور غزہ کے بچے نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں جو سالوں تک متاثر رہیں گے۔ غزہ کے بچے نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں جو سالوں متاثر رہیں گے۔

12عالمی عدالت برائے انصاف کا کہنا تھا کہ 12 کتوبر کو اسرائیلی صدر نے فلسطین کی پوری آبادی کو دشمن قرار دیا اور کہا کہ اکتوبرکواسرائیلی وزیر نے کہا تمام آبادی نکل جائے ہم حماس سے لڑ رہے ہیں۔
عالمی عدالت کے مطابق جینوسائیڈ کنونشن کے تحت جنوبی افریقہ کو درخواست لانے کا حق ہے۔
اسرائیل نےغزہ میں بڑے پیمانےپر آپریشن کیا، حماس حملے کے بعد اسرائیل نے حملہ کیا جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر جانی ومالی نقصان ہوا۔
عالمی عدالت برائے انصاف نے تسلیم کیا کہ علم میں ہے کہ غزہ میں انسانی المیہ جنم لےرہاہے، اسرائیلی حملوں میں غزہ میں بڑی تعداد میں انفرااسٹرکچر تباہ ہوا۔





















