الاباما دنیا میں نائٹروجن گیس کے ذریعے مجرم کو سزائے موت دینے والی پہلی ریاست بن گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق امریکی ریاست الاباما میں سزائے موت پانے والے مجرم کینتھ یوجین اسمتھ کو نائٹروجن گیس سے سزائے موت دے دی گئی ہے، یہ پہلا موقع ہے جب عالمی سطح پر سزائے موت کا طریقہ کار استعمال کیا گیا ہے۔
ایک عینی شاہد نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ سزائے موت پانے والے مجرم اسمتھ کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑا اور نائٹروجن گیس کے ذریعے سزائے موت پر عمل درآمد میں تقریبا 25 منٹ لگے۔
اقوام متحدہ نے جمعے کے روز اسے ظالمانہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی لیکن الاباما کا کہنا تھا کہ یہ عمل انسانیت سوز طریقے سے کیا گیا ہے۔
مجرم کینتھ یوجین اسمتھ کو 1989 میں ایک مبلغ کی بیوی الزبتھ سینیٹ کو قتل کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔
اپنے آخری الفاظ میں58 سالہ مجرم کینتھ یوجین اسمتھ نے کہا کہ ان کی موت کا مطلب یہ ہوگا کہ الاباما نے انسانیت کو ایک قدم پیچھے لے گیا ہے۔
مقتولہ کے بیٹے مائیک سینیٹ کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان جشن نہیں منا رہا لیکن اسمتھ نے اپنا قرض ادا کر دیا ہے۔
مائیک سینیٹ کا کہنا تھا کہ آج یہاں جو کچھ بھی ہوا وہ ماں کو واپس نہیں لا سکتا، انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ یہ دن ختم ہو گیا ہے۔
ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کے مطابق اسمتھ دنیا میں کہیں بھی خالص نائٹروجن گیس کا استعمال کرتے ہوئے موت کی سزا پانے والے پہلے شخص ہیں۔
