مغربی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران نے تین سیٹلائٹ لانچ کر دیئے ہیں۔
قطری خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق ایران کا کہنا ہے کہ ان سیٹلائٹس کو مواصلات اور جیوپوزیشننگ ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ خلا میں کارگو پہنچانے کی افادیت کی جانچ کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔
ایران نے وزارت دفاع اور مسلح افواج لاجسٹکس کے تیار کردہ اپنے کیریئر راکٹ کا استعمال کرتے ہوئے پہلی بار کامیابی کے ساتھ تین سیٹلائٹ لانچ کیے ہیں۔
یہ ایک ایسا سنگ میل ہے جس کے بارے میں مغرب کو خدشہ ہے کہ تہران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو تقویت ملے گی۔
سیٹلائٹس کو آج کم از کم 450 کلومیٹر (280 میل) کے مدار میں بھیجا گیا تھا۔ 32 کلوگرام وزنی ایک سیٹلائٹ اور 10 کلو گرام سے کم وزن کے دو نینو سیٹلائٹ سمرگ (فینکس) سیٹلائٹ کیریئر راکٹ کا استعمال کرتے ہوئے چلائے گئے تھے۔
سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ کیہان-2 اور حطف-1 نامی نینو سیٹلائٹس کو نیرو بینڈ کمیونیکیشن اور جیوپوزیشننگ ٹیکنالوجی کی جانچ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
ایرانی خلائی ایجنسی کی جانب سے تیار کردہ مہدا نامی اس بڑے سیٹلائٹ کا مقصد خلا میں متعدد کارگو پہنچانے میں سمرغ راکٹ کی درستگی کی جانچ کرنا ہے۔ سمرگ راکٹ کو ماضی میں متعدد ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
خبر رساں ادارے کی جانب سے کیے گئے ایک تجزیے کے مطابق یہ راکٹ ایران کے دیہی صوبے سمنان میں واقع امام خمینی خلائی مرکز سے لانچ کئے گئے تھے ۔
سرکاری ٹی وی کے نامہ نگار عباس رسولی نے ویڈیو میں کہا کہ سمورغ (راکٹ) کی گونج ہمارے ملک کے آسمان اور لامحدود خلا میں گونج رہی ہے۔
یہ تجربہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جاری جنگ پر وسیع تر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس سے علاقائی تنازعے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
یمن، شام، عراق اور لبنان میں ایران سے منسلک گروہ فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے امریکی اور اسرائیلی مفادات کے خلاف حملے کر چکے ہیں۔ تقریبا چار ماہ سے جاری اسرائیلی بمباری میں اب تک 26 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔




















