سراج الحق نے کہا ہے کہ سائفر کیس کے حقائق پوری قوم کے سامنے آنے چاہییں۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان، شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں سزا پر بے حد افسوس ہے، مقدمہ کی سماعت کھلی عدالت میں ہونی چاہیے تھی تاکہ عدل کے تقاضے پورے ہوتے۔
سراج الحق نے کہا کہ سائفر کیس پر آزاد غیر جانبدار کمیشن کا مطالبہ کرتے ہیں، سائفر کیس کے حقائق پوری قوم کے سامنے آنے چاہییں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملکی معاملات میں امریکی مداخلت چھہتر برسوں سے جاری ہے، پہلی بار ہوا ہے امریکی مداخلت ہمارے سرکاری حلقوں میں زیر بحث آئی۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی لیڈران کو فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے، فیصلے آئین، قوائد و ضوابط کے مطابق ہونے چاہییں، ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
سائفر کیس؛ بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قید کی سزا
عدالت نے سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو دس، دس سال قید بامشقت کی سزا سنا دی۔
آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذولقرنین نے سزا سنائی۔ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سائفر کیس کی سماعت جیل کورٹ روم میں ہوئی۔
پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی اپنی ٹیم کے ہمراہ اور اسٹیٹ کونسل وکلا بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
میڈیا کے نمائندوں، بانی پی ٹی آئی کی بہنیں، شاہ محمود قریشی کی فیملی اور جنرل پبلک کی کثیر تعداد کورٹ روم میں موجود تھی۔
بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی بھی کمرہ عدالت میں حاضر تھے۔
سماعت کے آغاز پر ملزمان بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو دفعہ 342 کا سوال نام دیا گیا۔ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے پہلے اپنا 342 کے تحت بیان عدالت میں ریکارڈ کروایا۔
بانی پی ٹی آئی کے بیان مکمل ہونے کے بعدعدالت نےاستفسارکیا کہ خان صاحب، آپ سے آسان سا سوال ہے، سائفر کہاں ہے؟ جس پر بانی نے جواب دیا کہ میں نے وہی بیان میں کہا ہے کہ مجھے نہیں معلوم، سائفر میرے دفتر میں تھا۔
جج نے کہا کہ خان صاحب، شاہ محمود قریشی صاحب، میری طرف دیکھیں، میں آپ کو 10، 10 سال قید کی سزا سناتا ہوں۔
آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے مختصرفیصلہ سنایااورعدالت سے چلے گئے۔
