Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

حکومتی مالی انتظام کے نظام کو مستحکم کرنے میں آڈیٹر جنرل کا کردار اہمیت کا حامل ہے ، صدر مملکت

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ حکومتی مالی انتظام کے نظام کو مستحکم کرنے میں آڈیٹر جنرل کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان آفس کا دورہ کیا جہاں صدر مملکت کو آڈیٹر جنرل آف پاکستان محمد اجمل گوندل  کی جانب سے ادارے کے کردار اور کارکردگی کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے صدر مملکت کو مالیاتی احتساب کے عمل میں ادارے کے کردار کے بارے میں بتایا اور کہا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کا ادارہ آڈٹ عمل مزید مؤثر بنانے کیلئے  اقدامات لے رہا ہے، آڈیٹر جنرل نے مالی سال 2022-23 میں 95 فیصد کمپلائنس آڈٹ  مکمل کیے، آڈٹ اور اکاونٹنگ عمل میں بہتری سے شفافیت ، احتساب اور گڈ گورننس کو فروغ حاصل ہوگا۔

بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز،  مصنوعی ذہانت  کے ٹولز کو آڈٹ عمل میں شامل کرنے کیلئے اقدامات جاری ہیں، آڈٹ عمل کی ڈیجیٹلائزیشن کیلئے آڈٹ مینیجمنٹ انفارمیشن سسٹم فعال کر دیا گیا، اکاؤنٹنگ عمل کی ڈیجیٹلائزیشن سے پنشنرز کو مؤثر انداز میں رقوم کی ادائیگی میں مدد ملی ہے

بریفنگ دیتے ہوئے مزید کہا گیا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان حکومتِ پاکستان سمیت مختلف اداروں کو آڈٹ کی خدمات فراہم کررہا ہے ، ڈیجیٹلائزیشن ، ادارے کی کارکردگی میں اضافے سے شہریوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے حکومتی شعبے میں شفافیت اور پارلیمانی نگرانی کے نظام میں مدد میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے کردار کو سراہا۔

اس موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی کارکردگی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، معیشت کی دستاویز بندی ، حکومتی لین دین ڈیجیٹل بنانے سے شفافیت کو فروغ حاصل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے کردار ، سرگرمیوں ، آڈٹ نشاندہیوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے ، قومی خزانے کے درست استعمال ، شفافیت کے فروغ کیلئے پارلیمانی نگرانی ناگزیر ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا کہ حکومتی مالی انتظام کے نظام کو مستحکم کرنے ، خامیوں کی نشاندہی میں آڈیٹرجنرل کا کردار اہمیت کا حامل ہےجبکہ حکومتی اخراجات میں شفافیت ، مالیاتی احتساب مضبوط بنانے کیلئے قانونی فریم ورک میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version