لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی امیدواروں سے انتخابی نشان واپس لینے کےخلاف دائردرخواست مسترد کردی۔
عدالت نے الیکشن ایکٹ کےسیکشن 215 کیخلاف درخواست مسترد کرنے کاتحریری فیصلہ جاری کردیا جس میں کہا گیا کہ الیکشن ایکٹ کاسیکشن 215آئین سے متصادم نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کوسیاسی جماعت کےخلاف پارٹی آئین کی تعمیل نہ کرنے پرکارروائی کاقانونی اختیارہے۔
عدالتی تحریری فیصلے کے مطابق اسی نوعیت کی درخواست پشاور ہائیکورٹ میں دائر کی جاچکی۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کیاگیا۔ درخواست ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے مسترد کی جاتی ہے۔
جسٹس شاہد بلال حسن نے تحریری فیصلہ جاری کیا، تحریری فیصلہ 18 صفحات پر مشتمل پے۔ درخواست میں انتخابی نشان واپس لینے کے الیکشن کمیشن کے اختیار کو چیلنج کیا گیا ہے۔
میاں شبیراسماعیل کےوکیل اظہر صدیق نے دلائل دیے کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 215 آئین سے متصادم ہے، سپریم کورٹ کئی فیصلوں میں طے کر چکی ہے کہ پارٹی الیکشن کا جنرل انتخابات پر کوئی اثر نہیں پڑتا، آئین کے ارٹیکل 17 کے تحت کسی بھی سیاسی جماعت پر صرف 2 صورتوں میں پابندی لگائی جاسکتا ہے۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ عوام کی نمائندہ جماعت اور ووٹرز کو اپنی مرضی سے ووٹ دینے سے روکا نہیں جا سکتا، استدعا ہے کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 215 کالعدم قراردیا جائے۔
