مچھ میں سیکیورٹی فورسز کے کلئیرنس آپریشن میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی مزید تصاویر منظرِ عام پر آ گئیں۔
دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسزکا کامیاب “مچھ کلئیرنس آپریشن” مکمل کیا جا چکا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی بروقت جوابی کارروائی سے تمام حملوں کو ناکام بنا دیا گیا۔
“مچھ کلئیرنس آپریشن” کے دوران مجموعی طور پر 24 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔ لاپتا افراد کے نام پر ملک کو بدنام کرنے کی سازش بھی بے نقاب ہوئی۔
بے نقاب ہونے والی سازش کی واضح مثال مچھ حملے میں ہلاک ہونے والے ایک دہشتگرد کی شناخت ہے، دہشتگرد عبدالودود ساتکزئی جس کو لاپتا افراد میں شامل کرکے ریاست مخالف پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا وہ مچھ حملے میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں ہلاک ہو گیا۔
مچھ حملے میں ہلاک دہشتگردوں کی مزید تصاویر منظر عام پر آگئیں
براہ راست دیکھیں:https://t.co/vJHfveCbX5#BOLNews #Balochistan pic.twitter.com/fTLGAgrHdN— BOL Network (@BOLNETWORK) February 3, 2024
اس سے قبل دہشتگرد امتیاز احمد ولد رضا محمد بھی لا پتا افراد کی فہرست میں شامل تھا، جو سیکیورٹی فورسزکی کارروائی کے دوران ماراگیا۔
عبدالودود ساتکزئی کی ہلاکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ لاپتا افراد کا پروپیگنڈا کرنے والے اور بلوچستان کے دہشتگرد عناصر ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں جو وقتاً فوقتاً ریاست پاکستان کیخلاف حملہ آور ہوتے رہتے ہیں۔
ہلاک دہشتگرد عبدالودود ساتکزئی کی بہن 12اگست2021سے بھائی کی گمشدگی کاراگ الاپ رہی تھی۔
حالیہ لاپتا افراد کے نام پرسیاست کرنے والی ماہ رنگ بلوچ جیسے عناصر بیرونی قوتوں کی ایماء پر ملک میں بدامنی اور انتشار پھیلا رہے ہیں، جس کا مقصد بلوچستان کی ترقی کو روکنا ہے۔
اس سے قبل ایران کے علاقے میں جوابی حملے کے دوران بھی کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی کے دہشتگرد ہلاک ہوئے جنہیں ماہ رنگ بلوچ نے بطور بلوچ شہری تسلیم کیا۔
مچھ اوراس جیسے بہت سارے دہشتگردانہ حملوں میں ملوث کالعدم تنظیموں کی مذمت ماہ رنگ بلوچ اور دیگر انسانی حقو ق کے علمبرداروں کی طرف سے کبھی نہیں کی گئی جن کی وجہ سے کئی معصوم بلوچوں کی جان گئی۔
صرف سال 2023میں دہشتگردوں نے ضلع تربت میں 158دہشتگردی کی کارروائیوں میں 66افراد کو شہید جبکہ30سے زائد زخمی کیے۔
حال ہی میں بلوچستان نیشنل آرمی کے ہتھیار ڈالنے والے سرفرازبنگلزئی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ؛ ”ملک دشمن عناصر چندپیسوں کےعوض بلوچستان کے معصوم لوگوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔“
قدرتی وسائل سے مالا مال سرزمین بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے یا ریاست مخالف حکمت عملی اپناتے ہوئے معصوم بلوچوں کے خوشحال بلوچستان کے خواب کی راہ میں رکاوٹ بننا ہے یہ فیصلہ ماہ رنگ بلوچ اور دہشتگرد عناصر کو کرنا ہے۔
