چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ میرے لیے ناممکن ہے کہ نواز شریف کی حکومت کا حصہ بنوں۔
تفصیلات کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ زبردست انتخابی مہم چلائی، پورے پاکستان نے رسپانس دیا، اب 8 فروری کے بعد میں جشن منا رہا ہوں گا، ن لیگ نے پیغام دیا کہ سندھ پنجاب کےپی کا ووٹ نہیں چاہیے، ن لیگ کو آدھا گھنٹہ نہیں ملا کہ کراچی آکر مہم چلاتے، ملک کو شہباز شریف کی طرح نہیں چلانا چاہتا، ان کا مقصد نواز شریف کو چوتھی بار وزیراعظم بنانا تھا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ناممکن ہو گا نواز شریف کابینہ میں کوئی عہدہ لوں، کل عوام کے پاس اپنا مستقبل منتخب کرنے کی چابی ہو گی، شہباز شریف کے ساتھ 16 ماہ ورکنگ ریلیشن شپ رہی، الیکشن مہم چلاتے ہیں تو ایک دوسرے کی تعریفیں نہیں کرتے، ن لیگ کے امیدوار کے ساتھ مباحثہ نہیں ہو سکا، میرے لیے ناممکن ہے کہ شہباز شریف، نواز شریف کی حکومت کا حصہ بنوں۔
ان کا کہنا تھا کہ نہیں چاہوں گا کہ میرے دور میں کوئی سیاسی قیدی ہو، پیپلز پارٹی نے کسی بھی دور میں کوئی سیاسی قیدی نہیں رکھا، پیپلز پارٹی کی تاریخ ہے کہ وہ کسی سے سیاسی انتقام نہیں لیتی، ملک میں نفرت اور تقسیم کا ماحول ختم ہونا چاہیے، اس کے لیے مصالحتی کمیشن بنانے کی تجویز ہے، امید ہے ہم اس پوزیشن میں ہوں کہ حکومت بنائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ اور پی ٹی آئی تقسیم کی سیاست کر رہی ہیں، پی ٹی آئی اور ن لیگ نے ایسی سیاست جاری رکھی تو ساتھ نہیں چل سکتے، نفرت اور تقسیم کی سیاست ختم کریں تو ان کے ساتھ چل سکتے ہیں، سیاستدانوں کو ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہیے، سیاستدان ایک دوسرے کی عزت نہیں کریں گے تو دوسروں سے توقع نہ کریں، نظام جمہوری طریقے سے چلتا تو حالات اس نہج پر نہیں آتے، زمینی حقائق یہ ہیں کہ ن لیگ 100 سیٹوں تک بھی نہیں پہنچ پائے گی۔
