Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

افغانستان میں طالبان کی وجہ سے شعبہ طب مشکلات کا شکار

افغانستان میں طالبان حکومت کے دوران خواتین کی نوکریوں پر پابندی کی وجہ سے شعبہ طب بری طرح متاثر ہوگیا ہے۔

اگست 2021ء میں افغانستان پر افغان طالبان کے قبضے کے بعد صورت حال مزید سنگین ہوچکی ہے اور افغانستان ترقی کے بجائے مختلف شعبہ جات میں تنزلی کا شکار ہے۔

افغان طالبان اپنے انتہاء پسند رویے کو بدلنے میں ناکام رہے ہیں اور افغان عوام خصوصاً خواتین کے حقوق سے روگردانی کرتے ہوئے نام نہاد شریعت کے نفاذ کے نام پر مختلف معاشرتی برائیوں میں ملوث ہوچکے ہیں۔

یہ افغان طالبان کا انتہاء پسندانہ رویہ ہی ہے کہ افغانستان کے پڑوسی ممالک افغان طالبان کی پیدا کردہ دہشت گردی کا شکار ہیں اور افغان عوام زندگی کی بنیادی ضروریات کے فقدان کی وجہ سے لا تعداد مسائل کا شکار ہوچکے ہیں۔

خواتین کی نوکریوں پر پابندی سے افغانستان میں شعبہ طب بری طرح متاثر ہوا اورخواتین ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف بے روزگار ہوگئیں جب کہ افغان طالبان نے خواتین کے علاج میں محرم اور نامحرم کی پابندی عائد کردی جس سے بہت سی بیمار خواتین علاج کی سہولیات سے محروم ہوچکی ہیں۔

افغان طالبان کے غیر منطقی اور دوہرے معیار کی وجہ سے خواتین شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں جس کا نتیجہ افغانستان میں بڑھتی ذہنی و جسمانی بیماریوں کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی غیر ملکی امداد میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے صحت عامہ کا شعبہ بری طرح متاثر ہواہے۔

نیویارک میں مقیم واچ ڈاگ کا کہنا ہے کہ طبی شعبے کے زوال پذیر ہونے سے افغان آبادی کا بڑا حصہ بیماریوں کا شکار ہوچکا ہے۔

افغانستان پر بین الاقوامی پابندیوں نے عالمی اداروں تک رسائی اور بیرونی رقوم کو منقطع کردیا ہے جو امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا سے قبل امداد پر منحصر معیشت کو سہارا دیتے تھے، بیرونی امداد بند ہونے سے افغان عوام صحت اور خوراک کے مسائل کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور خطے پر اثرات

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق غربت کے باعث افغانستان کی ایک بڑی آبادی نہ ہی اپنے علاج پر توجہ دے سکتی ہے اور نہ ہی ان کے پاس ادویات خریدنے کی سکت ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مسائل کے شکارمایوس افغان عوام کی ایک بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ ذہنی دباؤ زدہ ماحول اور سہولیات کے فقدان سے افغانستان میں بہتری کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔

افغانستان میں غیر معمولی اقتصادی بحران اور افغان عوام کو علاج کی سہولیات کی عدم دستیابی سے لاکھوں لوگوں کی زندگی خطرے میں پڑچکی ہے۔

 مزید اقتصادی بحران کو روکنے اور افغان آبادی کے مصائب کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ افغان طالبان خطے میں دہشت گردی کو فروغ دینے کی بجائے اپنی صلاحیتوں کو عوام کی بھلائی کے لیے استعمال میں لائیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version