Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پی ٹی آئی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حق میں نہیں تھا، فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حق میں نہیں تھا، پی ٹی آئی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پی پی چلارہی تھی اور اگر عدم اعتماد سے انکار کرتا تو کہا جاتا میں نے بانی پی ٹی آئی کو بچایا۔

جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے 66 نشستوں کے ساتھ ملک بچانے کے لیے حکومت لینے کا اعلان کیا ہے لیکن سیاسی جماعتیں احتجاج کررہی ہیں ایسے میں سیاسی معاشی استحکام کیسے آئے گا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پارلیمان نہیں رہی اب اس کی اہمیت ختم ہوچکی، موجودہ پارلیمنٹ کا کوئی مستقبل نظر نہیں آرہا، انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاجی سیاست ہوگی، احتجاجی تحریک کا اعلان کر چکے ہیں اور سڑکوں کوگرمائیں گے۔

سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ اب فیصلے ایوانوں میں نہیں میدانوں میں ہوں گے، 2018 کے الیکشن میں بھی دھاندلی ہوئی اور اب پھرہوئی، 2024 کے الیکشن چوری ہوئےکسی سے کچھ پوشیدہ نہیں جب کہ بظاہر الیکشن میں دھاندلی کا فائدہ مسلم لیگ ن کوہوا اور ایسی افواہ ہے نوازشریف کولاہور کی سیٹ دی گئی ہے.

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ڈی ایم میں اختلافات کے باوجود اکھٹے چلتے رہے تاہم پی ٹی آئی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حق میں نہیں تھا، پی ٹی آئی کے خلاف تحریک عدم اعتمادپی پی چلارہی تھی اور اگر عدم اعتماد سے انکار کرتا تو کہا جاتا میں نے بانی پی ٹی آئی کو بچایا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سازی سے متعلق شہبازشریف میرے پاس آئے تھے، شہبازشریف کو اپوزیشن میں بیٹھے کا کہا توبغیرجواب دیے چلے گئے جب کہ پی ٹی آئی کا وفد آئے گا تو بات کرنے کوتیارہوں، پی ٹی آئی کے ساتھ دماغ کا فرق ہے جو صحیح ہوسکتا ہے۔

سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ ہم حکومت سازی کے عمل میں حصہ نہیں لے رہے ہیں، حکومت میں شامل ہوتے تون لیگ کوسپورٹ کرتے، اسمبلیوں میں تحفظات کے ساتھ جا رہے ہیں، ایسی حکومت بنانے کوکامیاب حکمت عملی نہیں سمجھتا، نوازشریف سیاست کا حصہ ہیں انہیں کرداراداکرناچاہیے اور ہم بڑے فیصلوں کی منظوری جنرل کونسلزسے لیں گے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version