نئی دہلی: مودی سرکار آئندہ عام انتخابات میں کامیابی کے لئے ایک طرف تو ہندوتوا کا بھرپور مظاہرہ کر رہی ہے تو دوسری طرف سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لئے فسطائی ہتھکنڈوں پر بھی عمل کیا جا رہا ہے۔
مودی سرکار اپوزیشن جماعتوں کی مقبولیت سے بوکھلاہٹ کا شکار دکھائی دے رہی ہے جب کہ مرکزی اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس کے اکاؤنٹس منجمد کردیے گئے ہیں۔
کانگریس پارٹی نے دعویٰ کیا کہ اس کے چار بینک اکاؤنٹس کو منجمد کیا گیا ہے، کانگریس لیڈر ملک ارجن کھارگے نے اکاؤنٹس منجمد کیے جانے کو ہندوستانی جمہوریت کے لیے افسوسناک دن قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کانگرس نے مودی کے کالے کرتوتوں سے پردہ اٹھا دیا
بھارتی تجزیہ نگاروں کے مطابق مودی حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنے سیاسی دشمنوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کررہی ہے۔
کانگریس ترجمان اجے ماکن کے مطابق ان کی پارٹی کے خلاف کارروائی کا مقصد انتخابات سے پہلے اسے بیک فٹ پر لانا ہے، قومی انتخابات کے اعلان سے قبل اہم اپوزیشن پارٹی کے اکاؤنٹس کو منجمد کرنا جمہوریت کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔
کانگریس ترجمان اجے ماکن کا کہنا ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ مودی سرکار یک جماعتی نظام کی طرف جانا چاہتی ہے۔
کانگریس ترجمان نے بتایا کہ اس فیصلے کے خلاف وہ عدالت میں اپیل کر رہے ہیں اور عوامی احتجاج بھی کریں گے۔
واضح رہے کہ اکاؤنٹس منجمد کرنے سے کانگریس پارٹی کا معاشی نظام درہم برہم ہوگیا ہے جب کہ مودی حکومت کی جانب سے ان الزامات پر ابھی تک کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔




















