پاکستان تحریک انصاف نے چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔
بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے تفصیلی ملاقات ہوئی ہے ہمارا سنی اتحاد کونسل کے ساتھ ہمارا جو معاہدہ ہوا اس پر بانی پی ٹی آئی کو آگاہ کردیا ہے جب کہ کل ہم نے پچاس ایم این ایز کی فہرست الیکشن کمیشن کو ارسال کردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشنر اس لئے استعفی دیں کیونکہ ان کے ماتحت انتخابات میں دھاندلی کی شفاف انکوائری نہیں ہوسکتی۔ الیکشن کمیشن سے ہمیشہ صاف و شفاف الیکشن کی استدعا کرتے رہے مگر الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہا، ہمارا مطالبہ ہے کہ نتائج فارم 45 کے تحت جاری کیے جائیں اور اگر فارم 45 کے تحت نتائج جاری نہیں کیے جاتے تو اس سے آئی ایم ایف کا پروگرام متاثر ہوگا۔
بیرسٹر گوہر علی کا کہنا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین کی مکمل مشاورت سے سنی اتحاد کونسل میں اپنے آزاد ارکان کو بھیجنے کا فیصلہ کیا، جمعرات کو مخصوص نشستوں کے لئے الیکشن کمیشن کو درخواست دیں گے، امید ہے کہ الیکشن کمیشن ہمیں ہمارے حصے کی مخصوص نشستیں دے دے گا۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صحیح نتائج عوامی مینڈیٹ کے تحت جاری ہونا چاہئیں کمشنر راولپنڈی نے واضح طور پر بتایا ہے کہ کس قسم کی دھاندلی ہوئی ہے، ہمارا مطالبہ ہے کمشنر راولپنڈی اور ان کے خاندان کو مکمل سیکیورٹی دی جائے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ سابق کمشنر راولپنڈی اور ان کے اہل خانہ کو تحفظ دیا جائے۔
بیان حلفی
دوسری جانب آزاد اراکین اسمبلی کے بیان حلفی کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔ بیان حلفی کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 92 کی ذیلی شق 6 کے تحت سنی اتحاد میں شمولیت کی درخواست کی گئی ہے۔
بیان حلفی میں کہا گیا کہ میں عام انتخابات 2024 میں آزاد حیثیت سے رکن صوبائی وقومی اسمبلی منتخب ہوا ہوں، میرے پاس کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت کا موقع ہے، میں سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوا ہوں، جس کی قیادت پہلے ہی منظوری دے چکی ہے۔
