عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ غزہ سے 8 ہزار زخمیوں کو نکالنے کی سخت ضرورت ہے۔
تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی سے ایک اندازے کے مطابق آٹھ ہزار زخمیوں کو نکالنے کی ضرورت ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق ان زخمیوں کو پٹی سے باہر منتقل کرنے سے طبی عملے اور اسپتالوں پر کچھ دباؤ کم ہوجائے گا جو جنگی علاقے میں کام جاری رکھنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ایسے مریضوں کو غزہ سے باہر منتقل کرنے سے ان طبی عملے اور اسپتالوں پر پڑنے والے دباؤ میں کچھ کمی آئے گی جو جنگ زدہ علاقے میں کام جاری رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
فلسطینی علاقوں میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے رک پیپرکورن نے یروشلم سے ویڈیو لنک کے ذریعے جنیوا میں ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ ہمارا اندازہ ہے کہ غزہ کے 8,000 زخمی شہریوں کو غزہ سے باہر بھیجنے کی ضرورت ہے۔
رک پیپرکورن نے کہا کہ ان میں سے ایک اندازے کے مطابق 6,000 کا تعلق اس تنازعے سے ہے، جن میں وہ زخمی بھی شامل ہیں جو متعدد صدمے میں زخمی ہوئے، جل گئے اور کٹ گئے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے روزانہ 50 سے 100 مریضوں کو غزہ سے مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے ریفر کیا جاتا تھا جن میں سے نصف کینسر کے مریض تھے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ کی جنگ 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد شروع ہوئی تھی جس کے نتیجے میں اسرائیل میں تقریبا 1160 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیل کی جوابی بمباری اور زمینی حملے میں 30 ہزار 600 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔




















