اقوام متحدہ کے سربراہ نے ماہ صیام میں غزہ پر اسرائیلی بمباری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
خلیجی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پیر کو غزہ میں رمضان کے مقدس مہینے کے آغاز کے اعزاز میں بندوقوں کو خاموش کرنے کا مطالبہ کیا۔
سکریٹری جنرل نے یرغمالیوں کی رہائی اور جان بچانے والی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام رکاوٹوں کو ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے صحافیوں کو بتایا کہ رمضان امن، مفاہمت اور یکجہتی کا جشن مناتا ہے، رمضان شروع ہو چکا ہے لیکن غزہ میں قتل و غارت، بمباری اور خونریزی جاری ہے۔”
انہوں نے یرغمالیوں کی رہائی اور تمام رکاوٹوں کو ہٹانے پر زور دیا تاکہ ضروری رفتار اور بڑے پیمانے پر جان بچانے والی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ انسانی امداد کی کمی کا مطلب ہے کہ غزہ میں قحط کا بڑھتا ہوا خطرہ ہے، جہاں 2.4 ملین لوگ اسرائیلی فوج کے قریب قریب مکمل محاصرے میں ہیں۔
حماس کے زیر اقتدار غزہ میں وزارت صحت کے مطابق، 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے خونی حملے سے شروع ہونے والی جنگ کے نتیجے میں 31,112 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔




















