Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مودی سرکار کے متنازعہ شہریت قانون پر بین الاقوامی برادری بھی بول پڑی

ہندوتوا ایجنڈے پر عمل پیرا مودی سرکار کی جانب سے متنازعہ شہریت ترمیمی قانون 2019ء کے نفاذ کو بین الاقوامی برادری نے بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔

متنازعہ شہریت ترمیمی قانون پر اقوام متحدہ، امریکہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے بھارتی شہریت ترمیمی قانون کو انسانی حقوق قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے مودی سرکار کی جانب سے متنازعہ شہریت قانون پر کہا ہے ’’ہم اس قانون کے حوالے سے فکرمند ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ اس کو کس طرح نافذ کیا جائے گا‘‘۔

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا ’’مذہبی آزادی کا احترام اور تمام اقلیتوں کے لئے قانون کے تحت مساوی سلوک بنیادی جمہوری اصول ہیں‘‘۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی بھارت میں متنازعہ شہریت ترمیمی قانون 2019ء کے نفاذ پرمودی سرکار کو شدید تنقید کانشانہ بناتے ہوئے اسے ایک امتیازی قانون قرار دیا ہے۔

مودی سرکارکے نوٹیفکیشن کے بعد ایمنسٹی انڈیا نے ’’ایکس‘‘ پر کئی پوسٹوں میں کہا کہ متنازعہ قانون برابری اور عدم امتیاز کے حقوق کے منافی ہے جن کی ضمانت اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے میں دی گئی ہے۔

ایمنسٹی انڈیا نے کہا کہ ہم بھارتی حکام پر زور دیتے ہیں کہ ’’اس متنازعہ قانون کے حوالے سے پرامن احتجاج کا جواب دیتے ہوئے آزادی اظہار اور اجتماع کے حقوق کا احترام کریں‘‘۔

متنازعہ شہریت کے قانون کا نفاذ اس بات کا ثبوت ہے کہ مودی سرکار ملک کو ایک ہندوتوا ریاست میں تبدیل کرنے اور ملک میں آباد 20 کروڑ سے زائد مسلمانوں کو پسماندگی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کررہی ہے۔

متعلقہ خبریں