وزیراعظم نے کہا کہ کوئی دورائےنہیں پاکستان میں دہشتگردی دوبارہ سراٹھارہی ہے، بےپناہ وسائل خرچ کرنےکےبعددہشتگردی کاواپس آناالمیہ سےکم نہیں۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ کارکردگی اورذمہ داری کے حوالےسےعوام کی معیارپرپورااترے گی، وطن کےسپوتوں نےدہشتگردوں کامقابلہ کرتےہوئےجان کانذرانہ دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے جوانوں نےدہشتگردوں کومارنےکےبعدشہادت قبول کی، شہیدہونےوالےدونوں نوجوانوں کے اہلخانہ سےملاقات ہوئی، شہداکےاہلخانہ سےملکر ایمان تازہ ہوگیا، کوئی دورائےنہیں پاکستان میں دہشتگردی دوبارہ سراٹھارہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ غازی ہتھیلی پر جان رکھ کر دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں، ماضی میں قربانیوں کےنتیجےمیں دہشتگردی کامکمل صفایاکردیاتھا، بدقسمتی سےچند سال پہلےدہشتگردی نےپھرسے سراٹھایا، بےپناہ وسائل خرچ کرنےکےبعددہشتگردی کاواپس آناالمیہ سےکم نہیں۔
وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ برادرملک ہمارے ساتھ بیٹھ کردہشتگردی کےخاتمےکےلیےکام کرے، ہمسائے ممالک کے ساتھ امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، سرحد پاردہشتگردی اب برداشت نہیں کی جائے گی، خوشی سے نہیں لیکن آئندہ بھی ہمیں ایک پروگرام کی ضرورت ہے۔
کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں قرضوں سےجان چھڑانی ہے، 2400 ارب روپے کے محصولات کےکیسز عدالت اورٹریبونلزمیں ہیں، ہمیں پتاکرناہےکہ کونسےمحصولات ہےجوقومی خزانےمیں آنےوالےہیں۔ ایف بھی آر کو 100فیصد ڈیجیٹلائز کرنےکی منظوری دی ہے، ٹریبونلز سےمیٹنگ کریں اورجلدانصاف پرمبنی فیصلہ کریں۔
وزیراعظم نے کہا کہ کل ایف بی آرکو100فیصدڈیجیٹلائزکرنےکیلئےآخری میٹنگ کرلی ہے، اپریل کے تیسرے چوتھے ہفتے میں کنسلٹنٹس تعینات ہوجائیں گے، 8 اپریل کو ورلڈ کلاس کنسلٹنٹس کی بڈز آجائیں گی، مافیازاربوں کھربوں روپے قوم کے کھارہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف واضح طورپرکہہ رہاہے کہ ٹیکس نیٹ کادائرہ بڑھائیں، آئی ایم ایف کی شرط ہےکہ ٹیکس نیٹ کو بڑھائیں، 400سے500ارب روپےکی سالانہ بجلی چوری ہورہی ہے، چیئرمین ایف بی آر، وزیرخزانہ کوکہاہےفرض شناس افسران کی فہرستیں بنائیں۔
یہ خبر بھی پڑھیں؛ وفاقی کابینہ ارکان کا رضاکارانہ طورپرتنخواہیں اور مراعات نہ لینے کا فیصلہ
