Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اقوام متحدہ نے یورپی یونین پر غزہ کے معاملے میں دوہرے معیار کا الزام لگا دیا

اقوام متحدہ نے یورپی یونین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ غزہ کے معاملے پر دہرا معیار اپنائے ہوئے ہے۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ نے یورپی یونین کے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں بین الاقوامی قانون کا وہی احترام کریں جو وہ یوکرین میں برقرار رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ لاکھوں فلسطینیوں کو خوراک کی شدید قلت اور ممکنہ قحط کا سامنا ہے۔

برسلز میں یورپی یونین کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین میں درج معیارات کے احترام میں مضبوط اور متحد رہیں۔

انتونیو گوتریس نے یورپی یونین کونسل کے صدر چارلس مشیل کے ساتھ کھڑے ہو کر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں غزہ کی طرح یوکرین میں بھی دوہرے معیار کے بغیر اصولوں پر قائم رہنا چاہیے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک نے خبردار کیا ہے کہ شمالی غزہ میں قحط پڑ سکتا ہے۔ دریں اثنا، اسرائیل جنوبی شہر رفح میں زمینی کارروائی شروع کرنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتا ہے، جہاں بہت سے لوگوں نے لڑائی سے پناہ لی ہے۔

اس وقت 47 ممالک پر مشتمل یورپی یونین طویل عرصے سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے بارے میں اپنے نقطہ نظر میں گہری تقسیم کا شکار ہے اور 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے تباہ کن حملے نے ان اختلافات کو بے نقاب کر دیا ہے۔

غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 32 ہزار تک پہنچ گئی ہے اور مزید ممالک جنگ بندی کے مطالبے کی حمایت کر رہے ہیں۔

اس کے برعکس، تقریبا پورا بلاک یوکرین کے خلاف روس کی دو سالہ طویل جنگ کو اپنے وجود کے خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔ انہوں نے ملک کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرکے اور جنگ سے تباہ حال معیشت کو سہارا دے کر اس کی مدد کے لئے اربوں یورو خرچ کیے ہیں۔

آئرش وزیر اعظم لیو ورادکر، جن کا ملک فلسطینیوں کے مضبوط ترین حامیوں میں سے ایک ہے، نے کہا کہ فلسطین میں خوفناک بحران پر ردعمل یورپ کے لئے بہترین وقت نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں