ائی جی سندھ غلام نبی میمن نے چارج سنبھالتے ہی پہلا اعلٰی سطٰحی اجلاس طلب کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے چارج سنبھالتے ہی پہلا اعلیٰ سطحی اجلاس بلا لیا، جس میں سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ ٹاسک فورس کو فی الفور بحال کیا جائے، انٹیلیجینس رپورٹ غلط ثابت ہونے پر سپروائزری افسران کو ملازمت سے فارغ کردیا جائے گا۔
اجلاس میں سندھ میں امن و امان کی موجودہ صورتحال، پولیس سیکیورٹی پلانز سمیت انسداد جرائم کے خلاف پولیس حکمت عملی اقدامات کو ذیر غور لایا گیا۔
آئی جی سندھ نے گٹکا،ماوا اور منشیات کے خلاف ٹاسک فورس کو آج ہی سے بحال کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
آئی جی سندھ نے ایس ایس پیز کو ہدایات دیں کہ معمولی نوعیت کے جرائم کی پاداش میں علاقہ ایس ایچ اوز کو ہر گز شوکاز نوٹس نہ دیئے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ایس ایچ اوز کی تقرریوں کے اعلامیئے کی طرح ایڈیشنل ایس ایچ اوز کی تعیناتیوں کا بھی اعلامیہ احکامات جاری کیئے جائیں۔
آئی جی سندھ نے کہا ٹریفک پولیس کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں, شاہراہوں و دیگر مقامات پر ٹولیوں کی صورت میں موجود ٹریفک پولیس افسران اور جوانوں کو فوری ختم کیا جائے، بصورت دیگر سخت انضباطی کاروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ تمام ایس ایس پیز دفتر میں صبح 10 بجے سے لیکر دوپہر2 بجے تک اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں۔

















