کراچی میں رمضان المبارک کے ابتدائی 15 روز میں اسٹریٹ کرائمز کی 3 ہزار 3 سو زائد وارداتیں رپورٹ ہوئیں ہوئیں۔
رمضان میں ڈاکوئوں نے مختلف علاقوں میں خاتون سمیت 8 شہریوں کی جان لے لی، رواں سال ڈکیتی مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 47ہو گئی۔
تین رمضان المبارک کو ملیر کینٹ کے قریب ڈاکووں نے جمیل نامی دودھ فروش کو قتل کیا جبکہ پانچ رمضان کو ڈاکوؤں نے عیسیٰ نگری میں فرحان کی جان لی۔
پاکستان بازار کے علاقے میں ڈکیتی مزاحمت پر زخمی ہونے والا محمد فرحان بھی اسی روز دم توڑ گیا جبکہ 10 رمضان المبارک کو ڈاکوئوں نے پاکستان بازار کے علاقے میں اختر مسیح کو گھر کی دہلیز پر گولی مار کر ہلاک کردیا۔
ملیر کینٹ میں انجینئر شعیب شفقت کو ڈکیتی مزاحمت پر گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا جبکہ رمضان المبارک کی 13 تاریخ کو نارتھ کراچی میں عبدالرحمان نامی نوجوان کی زندگی کا خاتمہ کر دیا گیا۔
14 رمضان المبارک کو سرجانی میں ڈاکوؤں نے موبائل فون کی خاطر ذوہیب نامی نوجوان کو قتل کر دیا جبکہ 15 ویں روزے کو اورنگی ٹاؤن میں موجود خاتون نازیہ اسٹریٹ کرمنل کی گولی کا نشانہ بنی۔
پولیس حکام کے مطابق ماہ رمضان کے دوران اسٹریٹ کرائم کی مجموعی طور پر 3 ہزار سے زائد وارداتیں رپورٹ ہوئیں، پولیس کے ساتھ مختلف مبینہ مقابلوں میں چار ڈاکو بھی مارے گئے جبکہ 94 زخمیوں سمیت 148 اسٹیٹ کرمنلز رنگے ہاتھوں گرفتار کیے گئے، گرفتار ملزمان سے مختلف اقسام کے 108 ہتھیار بھی برآمد کیے۔
