بھارت میں بے روزگار نوجوانوں کا نوکری کے بہانے روس میں یوکرین کے خلاف جنگ لڑنے کا انکشاف ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی ایجنٹس نے بڑی تعداد میں بے روزگار اور غریب نوجوانوں کو روس میں سیکیورٹی گارڈ کی پُرکشش نوکری کا جھانسہ دے کر یوکرین کے خلاف میدان جنگ میں اتار دیا۔

بھارت میں مختلف اخبارات اور سوشل میڈیا پر روس میں سیکیورٹی گارڈز کی نوکری کے اشتہار شائع ہوئے تھے جن میں کام کرنے والے افراد کو پُرکشش معاوضوں کی پیشکش کی گئی تھی۔
گزشتہ سال اکتوبر میں ڈیوڈ موتھپن نامی ایک بھارتی شہری نے فیس بک پر ایک اشتہار دیکھا تھا جس میں روس میں سکیورٹی گارڈز کی نوکریوں کی پیشکش کی گئی تھی۔
اشتہار میں 2200 ڈالر ماہانہ تنخواہ کی پیشکش کی گئی تھی جو بھارت کے کروڑوں غریب افراد کے لیے بہت بڑی رقم ہے۔
ڈیوڈ موتھپن جنوبی بھارتی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھتا ہے جہاں پہلے ماہی گیری کا کام کرتا تھا لیکن آمدنی کم ہونے کے باعث ایک اسکول میں ملازمت اختیار کر لی۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی شہری ڈیوڈ موتھپن ایجنٹ کے جھانسے میں آ کر روس پہنچ گئے، جہاں اس کو مشرقی یوکرین میں روس کے زیر قبضہ شہر ڈونیٹسک کے جنگی محاذ پر بھیج دیا گیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق ڈیوڈ موتھپن ان متعدد بھارتی شہریوں میں شامل ہیں جنہیں ایجنٹوں نے یوکرین کے ساتھ ملک کی جنگ میں روسی افواج کے لئے لڑنے کے لئے دھوکہ دیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق کچھ لوگ بھارت واپس جانے میں کامیاب ہو گئے ہیں لیکن دیگر اب بھی روس میں پھنسے ہوئے ہیں، ان میں سے زیادہ تر کا تعلق غریب گھرانوں سے ہے۔
یوکرین کے جنگی محاذ سے واپس آنے والے بھارتیوں کا کہنا ہے کہ انہیں اگلے مورچوں پر روسی فوج کے مددگاروں کے طور بھیجا گیا اور اب تک دو بھارتی اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں۔
بھارت کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو واپس لانے کے لئے روسی حکام کے ساتھ بہت سخت دباؤ ڈال رہا ہے اور وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے اسے بھارت کے لیے تشویش کا معاملہ قرار دیا ہے۔




















