فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ مولانا صاحب بتائیں کس نے اسمبلی خریدی اورکس کوبیچی، مولانا کوعوام نے مسترد کیا اور وہ بدلہ جمہوریت سے لینا چاہتے ہیں۔
سیکریٹری انفارمیشن پاکستان پیپلز پارٹی فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ فلسطین اورکشمیر پر بات کی ہے، ہم نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے، فیصلے خلاف آنے پر بھی عدالتوں پر تنقید نہیں کی، صوبائی وزرا سے حلف لینا وزیر اعلیٰ کا کام نہیں ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق آرڈرجاری کیا، ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ مخصوص نشستوں پر خواتین سے حلف لیاجائے، عدالتی حکم کے باوجود مخصوص نشستوں پر حلف نہیں لیاجارہا، وزیراعلیٰ نے پریس کانفرنس کی کہ حلف نہیں لوں گا۔
سیکریٹری انفارمیشن پی پی نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی کو چاہیے اپنے صوبے پر دھیان دیں، مخصوص نشتیں اپوزیشن جماعتوں کو ملنا ہے، الزامات کی سیاست سے باہر آجانا چاہیے، وزیراعلیٰ کے پی وفاق آئیں بیٹھیں اورملکر بات کریں مسائل حل کروائیں، اس وقت دہشت گردوں کے خلاف زیروٹالرنس ہونا چاہیے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کے اپنے ضلع میں دہشتگردی ہو رہی ہے، بلاول بھٹو اورآصف زرداری نے ہمیشہ مفاہمت کی بات کی ہے، آصف زرداری نے مشترکہ اجلاس میں خطاب میں بھی مل بیٹھنے کی بات کی، جلسے جلوس چھوڑیں اپنے مطالبات پر بات کریں۔
سیکریٹری انفارمیشن پی پی نے کہا کہ پارلیمان باجے بجانے کا فورم نہیں ہے، پے اے سی چیئرمین شپ کس کودیں، پی ٹی آئی آپس میں لڑرہی ہے، مولانا صاحب بتائیں کس نے اسمبلی خریدی اورکس کوبیچی، مولانا کوعوام نے مسترد کیا اور وہ بدلہ جمہوریت سے لینا چاہتے ہیں۔
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری ہے، رپورٹ کے مطابق 9 کروڑسے زائد لوگ سطح غربت سے نیچے ہیں۔ ہم آج تک انتخابات میں دھاندلی کا رونا رورہے ہیں، جیسے بھی انتخابات ہوئے انہیں عوام نے ووٹ دیا ہے۔
ندیم افضل چن نے کہا کہ پارلیمان میں آنے والی جماعتوں پربہت دباؤہے، عوام نےاپنے نمائندوں کوووٹ دیاہے، ہم نے نفرت اورتقسیم کی سیاست کے خاتمے کی بات کی ہے، بد قستمی سے آج تک ہم الیکشن کمیشن کو مضبوط نہیں کر سکے، پارلیمنٹ میں عوامی نمائندے بات کے بجائے گالم گلوچ کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہم شہدا کے سامنے شرمندہ ہیں جنہوں نے جمہوریت کی خاطر جانیں قربان کیں۔ غیر پارلیمانی رویوں سے عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔
