کینیڈا میں خالصتان تحریک کے سکھ رہنما ہردیپ کے قتل میں ملوث 3 بھارتی شہریوں کو گرفتار کرلیا گیا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق کینیڈا کی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے سکھ علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کیس میں تین بھارتی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔
کینیڈا کے پولیس سپرنٹنڈنٹ مندیپ موکر نے بھارتی شہریوں کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے کیس میں تینوں ملزمان پر قتل اور اقدام قتل کی فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان کی شناخت 22 سالہ کرن برار، 22 سالہ کمل پریت سنگھ اور 28 سالہ کرن پریت سنگھ کے نام سے ہوئی جب کہ تینوں ملزمان 3 سے 5 سال کے قبل بھارت سے کینیڈا آئے تھے اور انہوں نے اپنا حلیہ بھی تبدیل کرلیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق پولیس نے تینوں ملزمان کی مودی سرکار سے تعلقات کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور سلسلے میں دیگر سیکیورٹی ایجنسیاں بھی کینیڈین حکومت کے ساتھ تعاون کررہی ہیں۔
واضح رہے کہ خالصتان تحریک کے رہنما ہردیب سنگھ نجار کو 18 جون 2023 کو برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں ایک گردوارے کے باہر پارکنگ میں گولی مار کے قتل کر دیا گیا تھا۔
بعد ازاں کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے ہردیپ سنگھ نجار کے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی حکومت کے اس قتل میں ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں، جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔




















