ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے پیکا آرڈیننس میں ترامیم کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔
ذرائع کے مطابق رانا ثنا کی سربراہی میں کمیٹی ترامیم پراتحادی جماعتوں کواعتماد میں لے گی۔ کابینہ نے پیکا آرڈیننس ترمیمی مسودے پراصولی اتفاق کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اتحادی جماعتوں کواعتماد میں لینے کے بعد ترمیمی مسودہ ایوان میں لایا جائے گا۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے اداروں کے سربراہان کواضافی چارج دینے پراظہاربرہمی کرتے ہوئے کہا کہ مستقل تعیناتیاں کرکے اضافی چارج کا مسئلہ فوری ختم کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق پاسکو کے گندم خریداری کے ہدف میں4لاکھ میٹرک ٹن اضافے کی منظوری دی گئی۔ پاسکو کا گندم خریداری کا ہدف14سے18 لاکھ میٹرک ٹن کر دیا گیا، پاورسیکٹرکےلیے127ارب50کروڑروپے جاری کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔
وفاقی کابینہ نے اجلاس میں آزادکشمیرمیں بجلی ٹیرف کا فرق ختم کرنے، بقایہ جات کےلیے55ارب روپے منظورکیے۔ وزیراعظم آفس کی تزئین وآرائش کے لیے 16 کروڑ 24 لاکھ 86 ہزارروپے کی منظوری بھی دی گئی۔
وفاقی کابینہ کےاجلاس میں آزادکشمیر کےلیے 23 ارب روپے کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا گیا۔
وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈریونیوکنڈ یشنزآف سروس رولز2024کی منظوری دی گئی۔ قواعد کے تحت اپیلیٹ ٹریبونلزان لینڈریوینوکے ممبران کی تعیناتی کی جائیگی۔ ان ٹریبونلزکابنیادی مقصد ٹیکس سے متعلق زیرالتوامقدمات کوجلد نمٹانا ہے۔
اجلاس میں پاکستان الیکٹرانک کرائمزایکٹ2016 میں ترامیم پرمشاورت کےلئے کمیٹی کے قیام کی ہدایت کی گئی، خصوصی کمیٹی میں اتحادی جماعتوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ کمیٹی کی صدارت مشیروزیراعظم برائے سیاسی امورراناثنااللہ کریں گے۔
