امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی صحافی کرسٹینا گولڈ ہم نے پاکستانی اسٹریٹ پرفارمرز کی زندگیاں مشکل میں ڈال دی ہیں۔
امریکی خاتون صحافی کرسٹینا گولڈ ہم نے نیویارک ٹائمز میں متعصبانہ لفظوں کا استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستانی اسٹریٹ پرفارمرز دراصل خفیہ ایجنسی کے آلہ کار ہیں۔
کرسٹینا گولڈ ہم نے اپنے مضمون میں صحافتی روایات کی پاسداری کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سڑکوں پر گھومنے والے گداگر، کچرا اٹھانے والے اور اسٹریٹ پرفارمر بظاہر سڑکوں پر بھیک مانگ رہے ہیں لیکن اصل میں وہ پاکستانی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کرتے ہیں۔
نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے اس مضمون کی لکھاری کرسٹینا گولڈ ہم نے امریکہ اور یورپ کی سڑکوں پر پرفارم کر کے راہ گیروں سے مالی مدد مانگنے والے اسٹریٹ پرفارمرز کو چھوڑ کر پاکستان کے معروف اسٹریٹ پرفارمر ’گولڈن مین‘ کو ہدف تنقید کا نشانہ بنایا۔
یاد رہے کہ اسلام آباد میں ’گولڈن مین‘ کے نام سے اسٹریٹ پرفارمر کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے جو سڑک پر ایک ساکت مجسمے کی طرح اپنی پرفارمنس دیتا ہے۔
گولڈن مین نامی یہ اسٹریٹ پرفارمر اسلام آباد کے شہریوں خاص طور پربچوں کے دلوں میں گھر کر چکا ہے، شہری اپنے بچوں کے ہمراہ گولڈن مین کے پاس جاتے ہیں اس کے ساتھ تصویریں بنواتے ہیں اور کچھ پیسے دے کر چلے جاتے ہیں۔
اسلام آباد کے گولڈن مین کی گزر بسر شہریوں کے دیئے جانے والے پیسوں سے ہی ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ کرسٹینا گولڈ ہم امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی پاکستان اور افغانستان میں بیورو چیف بھی ہیں۔
حیرانگی اس بات کی ہے کہ کرسٹینا گولڈ ہم کے قلم نے یورپ اور امریکہ کے ان ہزاروں اسٹریٹ پرفارمرز کے خلاف کبھی کوئی تحریر نہیں لکھی اور نہ ہی انہیں ان ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کا آلہ کار بتایا۔
کرسٹینا نے اپنے مضمون میں لکھا کہ پاکستان کی سڑکوں پر گولڈن مین جیسے اسٹریٹ پرفارمر اداکار ہیں جو خفیہ ایجنسی کے مخبر ہیں، یہ لوگ بظاہر اسٹریٹ پرفارمر ہیں مگر ان کا اصل کام سیاست دانوں اور دیگر شہریوں پر نظر رکھنا ہے۔
کرسٹینا گولڈ ہم کے نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے اس کالم کی وجہ سے پاکستانی اسٹریٹ پرفارمرز کی زندگیاں خطرے میں پڑ چکی ہیں۔
ملک دشمن عناصر اس آرٹیکل کی بنیاد پر انہیں نشانہ بنا سکتے ہیں، گولڈن مین جیسے ان غریب اسٹریٹ پرفارمرز کو کوئی بھی دہشت گرد آئی ایس آئی کا ایجنٹ قرار دے کر ان کی جان لے سکتا ہے۔
ایسی صورت میں ان غریب اسٹریٹ پرفارمرز کا خون کرسٹینا گولڈ ہم اور نیویارک ٹائمز کے سر ہو گا۔
ان غریب پرفارمرز کو اگر کوئی دہشتگرد آئی ایس آئی کا ایجنٹ سمجھ کر مار ڈالے تو اس کا خون کرسٹینا گولڈ بام اور نیویارک ٹائمز کے سر ہوگا۔
کرسٹینا گولڈ بام اور نیویارک ٹائمز کا یہ منافقت اور ڈبل اسٹینڈرڈ سے بھرا ہوا اقدام قابلِ نفرت ہے جس کی ہر جگہ ہر ممکن حد تک مذمت کی جانی چاہئیے۔




















