سابقہ علیحدگی پسند گلزار امام شمبے کی قومی دھارے میں شمولیت کے ایک سال مکمل ہونے پر بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خصوصی سیمینار کا انعقاد کیا گیا ۔
بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مارخور آڈیٹوریئم میں 23 مئی 2024 کو خصوصی سیمینار کا انعقاد ہوا، تقریب کا عنوان، “بلوچستان میں امن و استحکام کی جانب سفر “ تھا۔

سیمینار میں گورنر بلوچستان شیخ جعفر مندوخیل نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ پینلسٹ میں وزیر داخلہ بلوچستان ضیاء اللہ لانگو، ایم پی اے ظہور بلیدی، ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند، وائس چانسلر ڈاکٹر خالد حفیظ، سابق ایم این اے اور وزیر زبیدہ جلال، سابق عسکریت پسند سرفراز بنگلزئی اور سابق عسکریت پسند گلزار امام شنبے شامل تھے۔
مہمانوں میں ایم پی ایز مینا مجید، پرنس آغا عمر، راحیلہ حمید درانی، زرک مندوخیل، رحمت صالح، زرین مگسی، اور سابق ایم پی اے ثناء بلوچ اور مہجبین شیران شامل تھے۔
سیمینار میں شہزادہ ذوالفقار، بشریٰ قمر، عاصم خان، سلیم شاہد، اور سید علی شاہ جیسے صحافیوں کے ساتھ ساتھ سینیٹر کامران مرتضیٰ سمیت ڈپٹی اٹارنی جنرل رؤف عطا، اور وکلا طیبہ کاکڑ اور نرگس سمالانی بھی شریک ہوئے۔
سماجی کارکنوں، سول سوسائٹی اور دیگر شعبوں کی نمائندگی میں کوئٹہ آن لائن کے ضیا خان، ماہر تعلیم رحیمہ جلال، کمشنر کوئٹہ ڈویژن حمزہ شفقت، اور IDSP کوئٹہ کی بانی قرۃ العین بختیاری نے بھی شرکت کی۔
تقریب کے دوران تفصیلی ڈسکشن پینل کا اہتمام کیا گیا تھا، جب کہ تقریب کا مقصد بلوچستان میں امن اور مفاہمت کا فروخت اور ہتھیار پھینکنے والے عسکریت پسندوں کو سیاسی سٹیک ہولڈرز اور نوجوان رہنماؤں کے ساتھ اکٹھا کرنا تھا۔
تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے شرکاء کا کہناتھا کہ کثیر الجہت نقطہ نظر کو سمجھا جائے، بلوچستان کے پرامن مستقبل کے لیے روڈ میپ بنانے پر توجہ دی جائے، مختلف گروہوں میں مکالمے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرتے ہوئے افہام و تفہیم کو فروغ دیا جائے۔
شرکاء نے کہا کہ امن اور مفاہمت کے لیے قابل عمل حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے، اور امن کے عمل میں نوجوانوں کے کردار اور ان کی شمولیت کو اجاگر کیا جائے۔
تقریب میں ہتھیار پھینکنے والے عسکریت پسندوں کی روئداد، مفاہمت کے سیاسی راستوں، تبدیلی کے سفر میں نوجوانوں کے کردار، اور امن کے لیے مشترکہ روڈ میپ پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی۔