Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیمرا کو ٹی وی چینلز کیخلاف تادیبی کارروائی سے روک دیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ پر پابندی کے خلاف درخواست پر پیمرا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ٹیلی ویژن چینلز کے خلاف تادیبی کارروائی سے روک دیا۔

جسٹس عامر فاروق نے اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن اور پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کی جانب سے پیمرا نوٹیفکیشن کے خلاف مشترکہ درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزاروں کی جانب سے بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی، اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ریاست علی آزاد عدالت میں پیش ہوئے۔

بعد ازاں عدالت نے پیمرا نوٹیفکیشن معطل کرنے کی متفرق درخواست پر نوٹس جاری کر دیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیمرا اور سیکریٹری انفارمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواست پر سماعت 28 مئی تک ملتوی کردی۔

تحریری حکم نامہ

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے وکیل کے مطابق پیمرا کا نوٹیفکیشن آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے کے برخلاف ہے، نوٹیفکیشن جاری کرنے سے پہلے متعلقین کو آگاہ کیا گیا نا مشاورت کی گئی، متعلقین کو آگاہ کیے بغیر نوٹیفکیشن جاری کرنا رولز اینڈ ریگولیشنز کی بھی خلاف ورزی ہے۔

حکم نامے کے مطابق 21 مئی کے پیمرا کے نوٹیفکیشن کے خلاف درخواست پر پیمرا کو 28 مئی کے لیے نوٹس جاری کیے جاتے ہیں، دریں اثنا پیمرا کو کسی بھی ٹی وی چینل کے خلاف کارروائی سے روکا جاتا ہے، بشرطیکہ نوٹیفکیشن پر عمل کیا جائے اور اس کی پیروی کی جائے۔

خیال رہے کہ عدالتی رپورٹنگ پر پیمرا کی پابندی کا نوٹی فکیشن لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے بعد سندھ ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کردیا گیا تھا۔

جمعیت علمائے اسلام پیمرا کی پابندی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ پہنچ گئی، پی ایف یو جے نے سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں آئینی درخواست دائر کی۔

اس سے قبل پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے صدور عقیل افضل اور فیاض محمود نے نوٹیفکیشن کے خلاف عدالت عالیہ میں درخواست دائر کی۔

لاہور ہائی کورٹ میں بھی اسی طرح کی دو درخواستیں دائر کی گئی تھیں، درخواست گزاروں نے پیمرا نوٹیفیکشن کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے اسی طرح کا مؤقف اپنایا تھا اور پابندی سے متعلق نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے کر معطل کرنے کی استدعا کی تھی۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version