ہسپانوی وزیر دفاع مارگریٹا روبلز کا کہنا ہے کہ میڈرڈ کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنا اسرائیل کے خلاف اقدام نہیں بلکہ غزہ میں تشدد کے خاتمے میں مدد کے لیے بنایا گیا ہے۔
ہسپانوی وزیر دفاع نے کہا کہ غزہ کا تنازع ‘حقیقی نسل کشی’ ہے، میڈرڈ کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کے بعد اسرائیل اور اسپین کے درمیان تعلقات خراب ہو گئے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے نے ہسپانوی وزیر دفاع کے بیان پر اسرائیلی حکام سے تبصرہ لینے کے لیے رابطہ کیا مگر رابطہ نہ ہو سکاْ۔تبصرہ کرنے کے لیے فوری طور پر اسرائیلی حکام سے رابطہ نہیں کر سکا۔
ہسپانوی وزیر دفاع مارگریٹا روبلز نے سرکاری ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ تبصرہ ہسپانوی نائب وزیر اعظم یولینڈا ڈیاز کے اس بیان کی تائید کی جنہوں نے رواں ہفتے کے اوائل میں غزہ تنازعہ کو نسل کشی قرار دیا تھا۔
روبلز نے انٹرویو میں کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے ہم نظر انداز نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ایک حقیقی نسل کشی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ میڈرڈ کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنا اسرائیل کے خلاف کوئی اقدام نہیں ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مقصد غزہ میں تشدد کے خاتمے میں مدد کرنا ہے۔
اسرائیل نے عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں جنوبی افریقہ کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حماس عسکریت پسند گروپ کے خلاف جنگ کر رہا ہے جس نے 7 اکتوبر کو حملہ کیا تھا۔
غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق غزہ میں اسرائیل کی مہم کے نتیجے میں تقریبا 36 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ .




















