فلسطین کی نسل کشی کے خلاف بھارت کی اسرائیل کو گولہ بارود کی فراہمی جاری ہے۔
ہندوستانی کارگو جہاز (ماریانے ڈینیکا- ڈنمارک رجسٹرڈ) 27 ٹن مہلک گولہ بارود/ دھماکہ خیز مواد کے ہمراہ چنئی کے راستے اشدود اسرائیل کی طرف گامزن ہے۔ ریڈ سی Red Sea کا چھوٹا سفراختیار کرنے کی بجائے، اس کارگو جہاز نے نسبتا کافی طویل مسافت کا انتخاب کیا ہے۔
اوپن سورس انٹیلیجنس (OSINT) نے Mediterranean Sea میں اشدودا بندرگاہ/ اسرائیل کے قریب جہاز کا تازہ ترین مقام (4/6 دن پہلے) ظاہر کیا ہےجو غزہ کی پٹی کے بالکل قریب ہے۔
اس کھیپ میں رفح بمباری میں استعمال ہونے والے گولہ بارود اور دیگر مواد شامل ہیں جنکا استعمال رفع کے ان لاکھوں فلسطینیوں کے خلاف ہوگا جنہوں نے کھلے آسمان تلے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔
دوران سفر جہاز گرانڈے، کیپ وردے کی پورٹس پر بھی رکا۔ کارگو جہاز نے اسپین میں بھی قیام کرنا تھا تاہم اسپین نے یہ کہتے ہوئے قیام کی اجازت سے انکار کر دیا کہ وہ معصوم شہریوں کے قتل عام میں شریک نہیں ہوں گے۔ شرمندہ ہو کر ہندوستانی آگے بڑھ گئے۔
اس سے پہلے حیفہ جانے والے جہاز کو اشدود کی طرف موڑ دیا گیا تھا جو کہ رفح/غزہ کے بالکل قریب ہے (مہاجرین کیمپوں پر بمباری ابھی شروع ہوئی ہے)۔
پہلے بھی بھارت نے اسرائیل سے 3 بلین ڈالر کا اسلحہ درآمد کیا جسکا استعمال چین اور پاکستان کے خلاف کر چکا ہے اور اب بھارت اسرائیل کو فلسطین کے خلاف لیس کر رہا ہے۔




















