جمعیت علمائے اسلام کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر حافظ حمد اللہ کا کہنا ہے کہ ہم ملک میں ازسرنوانتخابات چاہتے ہیں کیوں کہ موجودہ پارلیمان طاقت اور پیسے کی اسمبلی ہے۔
سابق سینیٹر حافظ حمد اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی اور پی ٹی آئی مشترکہ تحریک اپنی اپنی جگہ چل رہی ہے، پی ٹی آئی کو خوش آمدید کہا پھر بھی کہیں گے، پی ٹی آئی نے کہا بانی پی ٹی آئی کے حکم پر آئے، آپس میں رابطے ہونا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ فی الحال مشترکہ پلیٹ فارم پر تحریک نہ بھی ہو تو مشترکات پر ہماری سوچ ایک ہے، ابھی ملکر تحریک چلانے کا فیصلہ نہیں ہوا، مسلم لیگ ن اور پی پی پی سمیت پی ڈی ایم کی حکومت میں ہم سب اکٹھے تھے۔
حافظ حمداللہ کا کہنا تھا کہ جے یو آئی کو 8 فروری کے نتائج پر اعتراض ہے پی پی اور ن لیگ کو نہیں ہے، مسلم لیگ ن ہویا پی پی جو بھی رابطہ کرے گا ویلکم کہیں گے، جےیوآئی حکومت میں شمولیت نہیں کرے گی۔
ایک سوال کے جواب میں سابق سینیٹر نے کہا کہ پی ٹی آئی سے کچھ تحفظات ہیں، پی ٹی آئی بھی باہر اور طاقت کے مراکز سے ڈکٹیشن لیتی رہی ہے یہ تحفظات ہیں، ایک مشترکہ چارٹر پر اکٹھا ہونے کی صورت میں اکٹھے ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پوری قوم جانتی ہے کہ پانچ سال کے اندر انٹرا پارٹی الیکشن کرانا ضروری ہے، جے یو آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کے لئے رکنیت سازی کی جارہی ہے، ہرسطح پر رکنیت سازی کی جارہی ہے، مرکزی ناظم انتخابات مولانا عبدالحق درویش کو مقرر کیا گیا ہے۔
جے یو آئی رہنما کا کہنا تھا کہ اسلام آباد و چاروں صوبائی دارلحکومتوں میں رکنیت سازی کی جارہی ہے، جے یو آئی انتخابی رولز فالو کررہی ہے۔
