مودی سرکار نے عام انتخابات کے ابتدائی نتائج میں اکثریت حاصل کرلی ہے تاہم کئی سیٹوں پر انہیں بڑا اپ سیٹ دیکھنے کو ملا ہے۔
مودی سرکار کا ’’اب کی بار 400 پار‘‘ کا نعرہ فیل ہوگیا ہے تاہم بی جے پی اتحاد این ڈی اے کو 298 نشستوں پر برتری حاصل ہے جب کہ اس کے مقابلے میں 2019 میں انہوں نے 303 نشستیں جیتی تھیں۔
کانگریس کے انڈیا بلاک کو 232 نشستوں پر برتری حاصل ہے، بھارت میں 44 روزہ عام انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے جب کہ بھارت کے عام انتخابات میں 1 ارب رجسٹرڈ ووٹرز تھے۔
رائے بریلی میں کانگریس کے امیدوار راہل گاندھی کے مخالف بی جے پی امیدوار نے شکست تسلیم کرلی ہے، متھرا سے بی جے پی کی امیدوار ہیما مالنی اور لکھنئو سے راج ناتھ سنگھ کو برتری حاصل ہے۔
دوسری جانب راجستھان میں بی جے پی کو بڑا جھٹکا لگا ہے، راجستھان میں لوک سبھا کی 25 سیٹیں ہی جب کہ پی جے پی محض 13 سیٹوں پر آگے ہے تاہم 2019 میں بی جے پی کو 24 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔
خیال رہے کہ 543 رکنی لوک سبھا میں حکومت سازی کے لئے 272 کی سادہ اکثریت درکار ہے، 18ویں لوک سبھا کے لیے 543 سیٹوں پر ووٹنگ کا عمل یکم جون کو ہوا تھا، آج ووٹوں کی گنتی کی جا رہی ہے۔
علاوہ ازیں شیو سینا ایس ایج ایس 7، نیشنل کانگریس پارٹی کی 7، جنتا دل 12، شیو سینا بالا صاحب ٹھاکرے جماعت نے 9 نشستیں حاصل کی ہیں جب کہ دلی کے وزیر اعلیٰ کیجریوال کی عام آدمی پارٹی کو اب تک 4 سیٹیں حاصل ہوئیں ہیں۔
واضح رہے کہ اس الیکشن میں 8360 امیدوار انتخابی میدان میں اترے تھے جن کی قسمت کا فیصلہ آج سنایا جائے گا۔




















