Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

جاپان میں شرح پیدائش میں غیر معمولی کمی سے حکام پریشان

جاپان میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ملک کی مجموعی شرح پیدائش میں ریکارڈ غیر معمولی کمی ہوئی ہے۔

جاپان کے سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ سال 2023 میں مجموعی شرح پیدائش 1947 سے ریکارڈ رکھنے کے آغاز کے بعد سے کم ترین سطح پر آگئی ہے اور فی خاتون کی زندگی میں پیدا ہونے والے بچوں کی متوقع تعداد 1.20 تک گر گئی ہے۔

جاپان کی وزارت صحت نے آج 2023 کے لئے آبادی کے اعداد و شمار کا تخمینہ جاری کیا، جسے دیکھ پر جاپانی حکام پریشان ہو گئے ہیں۔

گزشتہ سال مجموعی شرح پیدائش پچھلے سال کے حتمی اعداد و شمار کے مقابلے میں 0.06 پوائنٹس کم تھی۔ یہ سال بہ سال کے اعتبار سے بھی مسلسل آٹھویں گراوٹ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق جاپان کے تمام صوبوں میں مجموعی شرح پیدائش میں کمی واقع ہوئی۔ سب سے زیادہ کمی کی شرح ٹوکیو میں 0.99 رہی جبکہ اوکیناوا میں کمی کی شرح سب سے کم 1.60 رہی۔

گزشتہ سال پیدا ہونے والے جاپانی بچوں کی تعداد سات لاکھ 27 ہزار 277 تھی۔ یہ ایک سال قبل کے مقابلے میں 43 ہزار 482 کم اور سال 1899 سے شماریاتی ریکارڈ رکھنا شروع ہونے کے بعد سے سب سے کم ہے۔

جاپان میں شادیوں کی تعداد چار لاکھ 74 ہزار 717 تھی۔ اس تعداد میں سال بہ سال کے اعتبار سے 30 ہزار 213 کی کمی ہوئی، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے جاپان میں شادیوں کی کم ترین سطح ہے۔

جاپان کی وزارت صحت کے عہدیداروں نے کہا کہ شرح پیدائش میں کمی نازک صورتحال سے دوچار ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 2030 کے عشرے تک کا عرصہ اس رجحان کو تبدیل کرنے کا آخری موقع ہوگا، کیونکہ اِس کے بعد نوجوان آبادی میں تیزی سے کمی کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں