سینیٹ کا اجلاس چئیرمین یوسف رضاء گیلانی کی زیر صدارت شروع ہوا جس میں گزشتہ 6 سال کی ایکسپورٹس کی تفصیلات پیش کی گئیں، وزارت تجارت کی جانب سے ایکسپورٹس کی تفصیلات پیش کی گئیں۔
تحریری جواب میں بتایا گیا کہ سال 2017-18 میں پاکستانی ایکسپورٹس 23 ارب ڈالر رہیں، سال 2018 -19 میں 23 ارب ڈالر 2019-20 میں 21ارب ڈالر ایکسپورٹس رہیں۔
تفصیلات میں بتایا گیا کہ سال 2020-21 میں 25 ارب ڈالر کی ایکسپورٹس ہوئیں، سال 2021-22 میں 31 ارب ڈالر سے زیادہ کی ایکسپورٹس ہوئیں، سال 2022-23 میں 27 ارب ڈالر سے زیادہ ایکسپورٹس ہوئیں۔
تحریری جواب میں کہا گیا کہ ریفنڈ جاری نہ ہونے،توانائی کے مہنگے دام ایکسپورٹس کی کمی کی وجوہات ہیں، برآمدات کی عالمی منڈیوں میں کم طلبی،زیادہ شرح سود،افراط زر کا دباو کم ایکسپورٹس کی وجوہات ہیں۔
اس کے علاوہ کورونا کی وجہ سے لاک ڈاون، مختلف ممالک میں بنکنگ چینلنز کی عدم دستیابی ایکسپورٹس میں کی وجوہات ہیں، پاکستان سٹیل ملز کا سال 2023 میں کل خسارہ 2 لاکھ 24 ہزار 631 ملین روپے ہے، پاکستان سٹیل ملز 2015 سے بند ہے۔
