دبئی کے حکام نے طلاق یافتہ والدین کے بیرون ملک سفری پابندی کے قانون میں نرمی کا اعلان کر دیا ہے۔
دبئی کی عدالتوں کی جانب سے جمعرات کو اعلان کردہ نئے طریقہ کار میں اسپانسر کی منظوری کے بعد سفری پابندی کو مستقل طور پر منسوخ کردیا گیا ہے۔
اس نئے قانون نے سے والدین اور اس کے بچے کے لئے متحدہ عرب امارات میں داخل ہونا اور باہر نکلنا آسان ہوجاتا ہے۔
اس سے قبل دوسرے والدین کی رضامندی کے بغیر بچے کے ساتھ ملک سے باہر نکلنا اغوا کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔
عدالت نے اس نئے قانون پر جج کے دستخط کے بعد فوری طور پر نافذ العمل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
دبئی کی عدالتوں میں پرسنل اسٹیٹس ایگزیکیوشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ سلیم محمد المسفری کا کہنا ہے کہ اس عمل میں پہلے بھی کئی وقت لینے والے اقدامات شامل تھے۔
سب سے پہلے ایک جج کو اسپانسر کی منظوری کے بعد فیصلہ جاری کرنا تھا جس کے بعد کرمنل انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ کو سفری پابندی عارضی طور پر منسوخ کرنے کا خط بھیجا گیا۔
متحدہ عرب امارات کی سرکاری پورٹل ویب سائٹ کے مطابق طلاق کی صورت میں عام طور پر ماؤں کو تحویل دی جاتی ہے۔ دریں اثنا، والد سرپرست کے طور پر کام کرتا ہے، جو بچے کی مالی دیکھ بھال کرنے کا ذمہ دار ہے۔




















