Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سیلز ٹیکس کی شرح بڑھانے سے عام آدمی پر بوجھ بڑھا دیا گیا، کاشف ممتاز

پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے صدر انور کاشف ممتاز نے کہا ہے کہ بجٹ دستاویز آئی ایم ایف نے مرتب کی ہے جس میں سیلزٹیکس کی چھوٹ ختم اور پیٹرولیم لیوی سے مہنگائی بڑھے گی، بجٹ میں سب سے کمزور تنخواہ دار طبقے پر 15 فیصد اضافی ٹیکس کا بوجھ ڈال کر نشانہ بنایا گیا ہے۔

پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے صدر انور کاشف ممتاز نے جمعرات کو سنیئر نائب محمد زبیرکے ہمراہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں جرمانوں کو بہت زیادہ بڑھادیا گیا ہے جس سے ٹیکس مشینری کے ہاتھ میں ہراساں کرنے کا ٹول آگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر بوجھ مزید بڑھا دیا گیا ہے، بجٹ میں فائلر نان فائلرز کے بعد لیٹ فائلر کی نئی سلیب متعارف کروائی گئی ہے، بزنس مین پر ٹیکس کی شرح بڑھائی گئی ہے، پراپرٹی پر کیپٹل گین ٹیکس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کو دستاویز کرنے کا اعلان کیا گیا ہے حالانکہ یہ اعلان متعدد مرتبہ پہلے بھی ہوچکا ہے لیکن اب اس پر عملدرآمد دیکھنا ہوگاجب کہ  ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لئے اقدامات ناکافی ہیں، نئے ٹیکس دہندگان کو شامل کرنے کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

انور کاشف ممتاز نے کہا کہ تاجر دوست اسکیم کے خاطر خواہ نتائج نہیں نکلے ہیں، دنیا بھر میں ٹیکس ریٹرن فائلر ہوتا ہے مگر پاکستان میں فائلر کے علاؤہ لیٹ فائلر اور نان فائلر کا اضافہ کردیا ہے، ایکسپورٹ سے فائنل ٹیکس ہٹانے سے سپلائی چین سامنے آتی ہے، اس سے ایسے لوگوں کی نشاندہی ہوگی جو کہ ٹیکس دینے کے قابل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کو دستاویزی بنانے پر ٹھوس اقدامات نہیں ہوئے اور معیشت کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے، بجٹ کی تبدیلی سے قبل اجلاس ہوگا جس میں تبدیلیاں کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس کی شرح بڑھانے سے عام آدمی پر بوجھ بڑھا دیا گیا ہے، براہ راست ٹیکس بڑھانے کے لئے کوئی اقدام نظر نہیں آرہا ہے، ٹیکس دھوکہ دہی کی تعریف میں تبدیل کردی ہے جس سے ٹیکس حکام کے پاس اختیار بڑھ گئے ہیں، قومی اسمبلی کوئی سیاسی ہم آہنگی نہیں ہے۔

کاشف ممتاز نے کہا کہ اعلان کردہ وفاقی بجٹ مسترد کررہے ہیں، معیشت کو دستاویزی بنانے کے لیے سیاسی طور پر نیت نہیں ہے، بجٹ دستاویز آئی ایم ایف نے مرتب کیا ہے، حکومت ٹیکس بیس بڑھانے کے لئے تیار نہیں ہے، سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم اور پیٹرولیم لیوی سے مہنگائی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ نان فائلر اور لیٹ فائلر کی کیٹیگری کو ختم کیا جانا چاہیئے۔ نان فائلر کے سفر پر پابندی ہے مگر جیون ساتھی کے بارے میں کوئی بات وضاحت نہیں ہوئی ہے، بجٹ دستاویز آئی ایم ایف نے بنایا ہوا ہے، یہاں قرض کی ادائیگی قرض لے کیا جاتا ہے جبکہ ٹیکس ریونیو سے قرض ادائیگی ہونا چاہیئے۔

پاکستان ٹیکس بار کے جنرل سیکریٹری ریحان صدیقی نے کہا کہ موجودہ بجٹ صنعتی ترقی اور کاروبار کے فروغ کو سپورٹ نہیں کرتا ہے، بجٹ کے زریعے معاشی ترقی پیدا ہونے کا امکان نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس صنعتی بیس نہیں ہے۔

Exit mobile version