Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

خیبرپختونخوا کی نمائندگی کے بغیر بجٹ کی قانونی حیثیت چیلنج کرتا ہوں، علی ظفر  

پی ٹی آئی سینیٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا  کی نمائندگی کے بغیر بجٹ کی قانونی حیثیت چیلنج کرتا ہوں، یہ سب سیاسی و معاشی بحران ایسے بجٹ کا زمہ دار الیکشن کمیشن ہے۔ 

سینیٹ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے اس وقت کوئی بھی ایوان میں موجود نہیں، وزیر خزانہ کو آج ایوان میں موجود ہونا چاہیے تھا، جس پر ڈپٹی چیئرمین سینٹ نے حکام کو وزیر خزانہ سے رابطہ کرکے اجلاس میں بلانے کی ہدایت کردی۔

علی ظفر کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت عوام کی نمائندگی نہیں کر رہی، آئندہ مالی سال کا بجٹ غریب کش ہے، بجٹ عوامی امنگوں کی عکاسی نہیں کرتا، میں نے بہت ڈھونڈا لیکن ایسا بجٹ میں کچھ نہیں ملا کہ حکومت کے اخراجات کیسے کم ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ معاشی نمو میں اضافے کیلئے بجٹ میں کچھ نظر نہیں آیا، اس بجٹ میں صرف نئے ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکس لگانے کی تجاویز ہی، لگتا ہے بجٹ بنانے والے زیادہ آئی ایم ایف کا خیال رکھ رہے ہیں، ٹیکسوں کا مقرر کردہ ہدف غیر حقیقی ہے۔

علی ظفر کا کہنا تھا کہ جو پہلے سے ٹیکس دے رہے ہیں ان پر مزید ٹیکس لگانا انہیں مارنے کے مترادف ہے، ودہولڈنگ ٹیکسز سے عام آدمی متاثر ہوگا، اس بجٹ سے کھانہ نہ کھانے اور دوائی نہ لینے والوں کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

سینیٹر کا کہنا تھا کہ بجٹ بنانےوالوں نےعوام کا سوچا ہی نہیں ان پر کیا اثر پڑے گا، یہ حکومت کی خواہشات کا دائرہ ہے جسے ختم کرنا ہوگا، ملک میں قانون کی حکمرانی نظر نہیں آرہی، سیاسی بحران ختم اور مینڈیٹ واپس کئے بغیر بجٹ کامیاب نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ یہ حکومت 2 ماہ بعد منی بجٹ لائے گی اور یہ تمام چیزیں واپس لے گی، کورونا کے باوجود رئیل اسٹیٹ سیکٹر کیوجہ سے ہماری معیشت پر اثرات کم پڑے، پراپرٹی سیکٹر ختم کردیا گیا، اس بجٹ سے ہم ملک کا نقصان کرنے جارہے ہیں، یہ بجٹ بحران اور بوکھلاہٹ میں بنایا گیا۔

علی ظفر کا کہنا تھا کہ یہ سب سیاسی و معاشی بحران ایسے بجٹ کا زمہ دار الیکشن کمیشن ہے، پی ٹی آئی کا نشان چھین کر الیکشن لڑنے سے روکا گیا، خیبرپختونخواہ کی 11 سیٹوں پر الیکشن نہیں کرائے گئے، خیبرپختونخواہ کی نمائندگی کے بغیر بجٹ کی قانونی حیثیت چیلنج کرتا ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف جو کہتا رہے لیکن ہمیں ڈکٹیشن نہیں لینی چاہیے، وزیر قانون کا یہ کہنا آئی ایم ایف نے کہا ہے یہ قابل قبول نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version