بلوچستان اسمبلی کا اجلاس کل سہ پہر 4 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیرتعلیم راحیلہ درانی نے کہا کہ سب نے مل کرمسائل اورچیلنجزحل کرنے ہیں، لڑکیوں کو تعلیم دلوانابڑاچیلنج ہے، تعلیم کے نظام کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیرتعلیم راحیلہ درانی نے کہا کہ اسکولوں میں سہولیات نہیں ہیں، 11 یونیورسٹیزکے 16 کیمپس ہیں، تنخواہیں دینے کیلئے پیسے نہیں ہیں، ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں 10 بلین روپے کی ضرورت ہے۔
وزیراعلٰی بلوچستان نے کہا کہ حکومتی اراکین کم بات کریں، اپوزیشن کووقت دیاجائے۔
عاصم کردگیلو نے کہا کہ ماضی میں صوبے کے پاس بجٹ بنانے کیلئے پیسے نہیں ہوتےتھے، این ایف سی ایوارڈ کی وجہ سے اب بجٹ بنانے کے قابل ہیں، پہلے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئےگرانٹ لینے جاتے تھے، اب عوام دوست بجٹ بنایا ہے جو قابل تعریف ہے۔
اجلاس کے دوران صوبائی وزیرریونیوعاصم کرد اوراپوزیشن لیڈریونس زہری کےدرمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔
اپوزیشن لیڈریونس زہری نے کہا کہ بجٹ پڑھنے کے بجائے مقصد کی بات کی جائے، شاہدہ رؤف نے کہا کہ حکومت کارویہ برداشت کرنے کا ہونا چاہیے، ہم سب مقدس ایوان کا حصہ ہیں، عیاشیاں ختم کرکےغیرترقیاتی اخراجات کم کرنےہوں گے، بیوروکریسی اور وزرا کی شاہ خرچیاں کم کیوں نہیں کرتے؟
