چیئرمین پی ٹی آئی (نظریاتی) اختر اقبال ڈار نے وزیراعظم شہبازشریف کو خط لکھ کر ملک کے معاشی حالات سے متعلق شکوہ کیا۔
اختر اقبال ڈار نے خط میں لکھا کہ ملک کی بگڑتی معاشی صورتحال کی وجہ سے 11 کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاکھوں نوجوان ملک چھوڑ کر بیرون ملک جاچکے ہیں، 50 فیصد نوجوان مایوسی کا شکار ہوچکے ہیں، سرمایہ کار پاکستان آنا پسند نہیں کررہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نظریاتی کا کہنا تھا کہ کسان تاجر،مزدور،کسان اور تنخواہ دار طبقہ پریشانی کے عالم میں ہیں، ملکی صنعت کا پہیہ جام اور تمام مسائل کیوجہ انرجی کرائسزہے۔
اختر اقبال ڈار نے کہا کہ مہنگی بجلی کیوجہ سے کاروباری طبقہ،غرہب سب چیخ وپکار کررہےہیں، بجلی کے بلوں میں20قسم کے ٹیکسوں سے عوام کو لوٹا جارہا ہے، غریب لوگ بیویوں کے زیور،گھریلو اشیا بیچ کر بجلی کےبل ادا کررہے ہیں۔
اختر اقبال ڈار نے وزیراعظم اور اراکین اسمبلی کو تجویز دی کہ قومی اسمبلی سےآئی پی پیزمعاہدوں کیخلاف بل منظور کرایا جائے، آئی پی پیزمعاہدوں پر نظرثانی کیلئے عالمی عدالت سے رجوع کرکے عوام کو ریلیف دلوایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئی پی پیز معاہدوں کے بینفشری کے ناموں کو قوم کےسامنے لایا جائے۔
