Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کم آمدنی والے گھرانوں کو 2 لاکھ سولر ہوم سسٹم فراہم کیا جائے گا، مراد علی شاہ

مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ بی آئی ایس پی ڈیٹا کے تحت صوبے کے تمام اضلاع میں کم آمدنی والے گھرانوں کو 2 لاکھ سولر ہوم سسٹم فراہم کیاجائے گا۔ 

وزیراعلیٰ ہاؤس میں2 لاکھ سولرہوم سسٹم کٹس کی فراہمی کے لیے 3 فریم ورک معاہدوں پر دستخطی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں وزیر توانائی ناصرشاہ ، سیکریٹری انرجی مصدق خان اور دیگر شریک تھے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ سولر انرجی پراجیکٹ (SSEP) ورلڈ بینک کے مالی تعاون سے شروع کیا جارہا ہے، ایکنک ECNEC نے 27.4 بلین روپے کی لاگت سے اس معاہدے کی منظوری دے چکی ہے۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ورلڈ بینک اس پراجیکٹ پر 100 ملین ڈالر کی فنڈنگ کررہی ہے، بی آئی ایس پی ڈیٹا کے تحت صوبے کے تمام اضلاع میں کم آمدنی والے گھرانوں کو 2 لاکھ سولر ہوم سسٹم فراہم کیاجائے گا۔ سولر ہوم سسٹمز100-80 ڈبلیو سولرپی وی پلیٹ، کم از کم 18 اے ایچ لیتھیم آئن بیٹری، 1 ڈی سی پنکھا، 3 ایل ای ڈی بلب اور موبائل چارجنگ کی سہولت پر مشتمل ہوں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سسٹم کی تخمینہ لاگت تقریباً 55000 روپے ہے، جس میں ٹرانسپورٹ، ٹیکس اور ڈیوٹیز سب شامل ہیں۔ کم آمدنی والے خاندانوں کو تقریباً 80 فیصد سبسڈی پر یہ سسٹم فراہم کیا جائے گا، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) میں رجسٹرکم آمدنی والے گھرانوں کو اس سسٹم میں شامل کیا جائے گا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ابتدائی طورپر50-21 کے درمیان غربت اسکور یکارڈ استعمال کیا جائےگا، بینظیرانکم سپورٹ ڈیٹا کے مطابق 20-0 تک کے وہ گھرانے جن میں سولر ہوم سسٹم کٹ کے لیے کم ازکم 6000 روپے ادا کرنے کی بھی گنجائش نہیں، انہیں محکمہ توانائی کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADB اسکیم) کے تحت سولر کٹس فراہم کیے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پروگرام کا آغاز 2020 میں کیا گیا مگرسبسڈی کی رقم 40 فیصد تھی جبکہ غریب گھرانے60فیصد اخراجات ادا کرنے سے قاصر تھے، صرف 322 سسٹم فروخت ہوئے، اب عالمی بینک کے تعاون سے سبسڈی کی رقم 80 فیصد تک بڑھا دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 2022 میں تباہ کن سیلاب اور کوویڈ 19 کے بحران کی وجہ سے یہ منصوبہ مزید تاخیرکا شکار ہوا، سبسڈی میں اضافے کے ساتھ PC-1 2023 کے تحت منصوبے کی حکمت عملی پر نظرثانی کی گئی اور بلک پروکیورمنٹ ماڈل اپنایا گیا، بنیادی طورپرمنصوبے میں 10 اضلاع کا انتخاب کیا گیا تھا لیکن نظرثانی شدہ PC-1 میں کراچی کے 7 اضلاع سمیت تمام 30 اضلاع کو شامل کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے حکمت عملی کو تبدیل کی گئی، اب عالمی بینک کے تعاون کے ساتھ بلک پروکیورمنٹ ماڈل کے تحت 6 ہزار روپے کی معمولی رقم وصول کی جائے گی، پروجیکٹ درآمد شدہ ایس ایچ ایس کے علاوہ مقامی طورپرخریدے گئے کمپوننٹس کی پوری لاگت کا احاطہ کرے گا، جن میں پنکھے، کیبلز وغیرہ کے علاوہ ٹیکس اور ڈیوٹیز سب شامل ہوں گے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ گھریلو صارفین سندھ بینک لمیٹڈ کے ذریعے بینک چالان کی صورت میں NGOs کے ذریعے تقسیمی اخراجات پورا کریں گے، ورلڈ بینک کے ضوابط کے مطابق بین الاقوامی بولی کے عمل کے ذریعے پراجیکٹ کی پوری مدت یعنی جولائی 2025 کے دوران ضروریات کی بنیاد پر مختلف بیچز میں2 لاکھ ایس ایچ ایس کٹس کی فراہمی کے لیے منتخب فرموں کے ساتھ فریم ورک کے معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ بولی کےعمل میں 18 مقامی اور بین الاقوامی فرموں نے حصہ لیا اور تین فرموں نے فریم ورک کے معاہدوں پر دستخط کرنے کے لیے کوالیفائی کیا گیا ہے، جن میں M/S Bboxx Ltd, UK, M/S Shenzen LEMI technology development Co. Ltd, China, M/S D light design Ltd, USA. شامل ہیں، تینوں فرمزدنیا کے مختلف حصوں میں سولر ہوم سسٹم کٹس فراہم کرنے کے حوالے سے بین الاقوامی طورپر شہرت یافتہ ہیں، فریم ورک معاہدوں پرآج دستخط کیے جائیں گے۔

وزیراعلٰی سندھ کا  کہنا تھا کہ فریم ورک کے معاہدوں کے تحت ایس ایچ ایس سسٹم لاگت کے اوپری کیپ کو ہر کمپنی کے لیے بند کر دیا گیا ہے جو کہ تقریباً 150 امریکی ڈالر بنتا ہے، ڈیمانڈ سپلائی چین آف ڈسٹری بیوشن کو منظم رکھنے کے لیے ایس ایچ ایس کٹس کی فراہمی کے لیے ان 3 منتخب فرموں کو کال آف نوٹس جاری کیا جائے گا، منتخب فرموں کے درمیان چھوٹے مسابقتی عمل کے ذریعے 50 ہزار ایس ایچ ایس کٹس تیار کرنے کے لیے پہلی کال جاری کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version