حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ امن و امان کی صورتحال میں کمی نہ برتی جائے، تمام عہدیداران کو آن بورڈ آنا چاہیے اور بلوچوں سے بات کی جانی چاہیے۔
امیرجماعت حافظ نعیم الرحمن نے لاہورمیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ہماری مرکزی ٹیم کا اجلاس ہوا، جس میں سیاسی و ملکی صورتحال کا جائزہ لیا، بلوچستان کی صورتحال کا خصوصی جائزہ لیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے بتایا کہ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اس صوبے میں ماضی میں مسائل پیش رہے ہیں، اس کی بنیادی وجہ صرف یہ ہے کہ صوبے کو حقوق اس کو نہیں ملتے۔
امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ صوبے کی صورتحال پر ایک گریٹر ڈائلاگ شروع ہونا چاہئے، امن و امان کی صورتحال میں کمی نہ برتی جائے، لیکن یہ ممکن نہیں کے یک طرفہ کام کیا جائے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ تمام عہدیداران کو آن بورڈ آنا چاہیے اور بلوچوں سے بات کی جانی چاہیے، آپریشن بلوچستان میں ماضی میں بھی ہوئے۔ جماعت اسلامی سمجھتی ہے ایک اس مسئلے کا حل صرف قومی ڈائیلاگ ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ذخائر نکلتے ہیں تو آپ باہر بھیج دیتے ہیں، بلوچستان میں بہت ترقیاتی کام ہو سکتا ہے، یہ بات ہمیں سمجھ جانی چاہیے 77 سال سے ہمیں سمجھ نہیں آئی۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ راولپنڈی میں تاریخی دھرنے میں حکومت نے ہمارے ساتھ معاہدہ کیا، جس کو 28 دن ہو چکے اور 17 دن باقی ہیں، اس دوران صرف یہ ہوا کہ پنجاب میں 2 ماہ کا ریلیف دیا گیا، جو قابلِ قبول نہیں۔
حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایک دن گن رہے ہیں، ہماری ممبر سازی مہم کا بھرپور رسپانس مل رہا ہے۔
