دستاویز پلاننگ کمیشن کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی لاگت پی ایس ڈی پی سے 10 گنا زائد ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
پلاننگ کمیشن ذرائع کے مطابق 1071 ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے کیلئے 10 ہزار 109 ارب روپے درکار ہیں، سالانہ 1 ہزار ارب ترقیاتی بجٹ جاری کر کے منصوبوں کو 2035 تک مکمل کیا جا سکتا۔
دستاویز پلاننگ کمیشن کے مطابق پراجیکٹس کی تکمیل کیلئے وفاق کے ذمہ مزید 8 ہزار 935 ارب روپے درکار ہیں، صوبوں کی شراکت داری سے مکمل ہونے والے پراجیکٹس کیلئے 1 ہزار 173 ارب روپے درکار ہیں۔
دستاویز پلاننگ کمیشن میں کہا گیا کہ ابھی تک ان ترقیاتی منصوبوں پر 37 سو 5 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں، 1071 ترقیاتی اسکیموں کی مجموعی لاگت 13 ہزار 815 ارب روپے سے زائد ہے۔
بلوچستان کیلئے 2 سو اسکیموں کی لاگت 1048 ارب، پنجاب کی 172 اسکیموں کیلئے 707 روپے ہے، سندھ کے 117 ترقیاتی منصوبوں کیلئے 613 ارب، کے پی کی 101 اسکیموں کیلئے 642 ارب چاہیے۔
اے جے کے کی اسکیموں کیلئے 44 ارب، جی بی میں 37 ترقیاتی منصوبوں کیلئے 443 ارب چاہیے، رواں سال صوبہ سندھ کیلئے سب سے زیادہ 171 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوں گے۔
دستاویز کے مطابق بلوچستان کو 129 ارب سے زائد اور پنجاب کو 118 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ ملے گا، خیبرپختونخواہ کو رواں مالی سال 52 ارب روپے، اے جے کو 44 ارب روپے ملیں گے، گلگت بلتستان کیلئے 65 ارب اور انضمام شدہ اضلاع کیلے 74 ارب روپے مختص ہیں۔
