وفاقی وزیر جام کمال کا کہنا ہے کہ بیلاروس کے ساتھ تعلیمی، سائنسی اور تکنیکی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ بیلاروس کے ساتھ مشترکہ صنعتی منصوبوں کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیرجام کمال خان اور وفاقی وزیراکنامک افیئرزڈویژن احد خان نے بیلاروس کے وفد کا پاکستان میں پرتپاک استقبال کیا، اس موقع پروزیر تجارت جام کمال خان نے ساتویں پاک بیلاروس جوائنٹ منسٹریل کمیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک، بیلاروس مشترکہ وزارتی کمیشن دوطرفہ تعاون کا اہم پلیٹ فارم ہے۔
جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان اور بیلاروس کے تعلقات باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔ بیلاروس کے ساتھ تجارتی حجم بڑھانے کے لیے نئی منڈیوں کی تلاش ضروری ہے۔ بیلاروس کے ساتھ مضبوط تجارتی اور اقتصادی تعلقات استوار ہو رہے ہیں۔
وفاقی وزیر تجارت نے خطاب میں کہا کہ 2023-24 میں پاک-بیلاروس تجارت کا حجم 34.88 ملین امریکی ڈالر رہا۔ پاک-بیلاروس مشترکہ کاروباری کونسل کی چھٹی نشست جلد منعقد ہوگی۔ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بیلاروس کے سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔
جام کمال خان نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل بیلاروس کے سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرے گی۔ زرعی میکانائزیشن کے شعبے میں بیلاروس کی مہارت پاکستان کے لیے فائدہ مند ہوگی۔ صنعتی شعبے میں پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تعاون کے وسیع مواقع ہیں۔
انھوں نے خطاب میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیات کے تحفظ میں مشترکہ تعاون کی ضرورت ہے۔ پاک-بیلاروس تعلقات میں عوامی سطح پر رابطے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ بیلاروس کے ساتھ تعلیمی، سائنسی اور تکنیکی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ بیلاروس کے ساتھ مشترکہ صنعتی منصوبوں کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔
جام کمال خان نے کہا کہ بیلاروس کے ساتھ زرعی مصنوعات کے تبادلے میں اضافے کی ضرورت ہے۔ بیلاروس کے ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے صنعتی ترقی کی جائے گی۔ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بیلاروس کے ساتھ مل کر کام کرنا ضروری ہے۔ بیلاروس کے ساتھ سیاحت اور ثقافتی تبادلوں کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ بیلاروس کے ساتھ تجارتی تعاون میں مزید وسعت کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی تیاری کی جائے گی۔
بیلاروس کی وزیر نے ۷ جائنٹ منسٹریل کمیشن سی خطاب میں کہا کہ آج کی میٹنگ پاکستان اور بیلاروس کے تعلقات کو مضبوط کرے گی، پاکستان اور بیلاروس طویل المیعاد تعلقات ہیں، میں سمجھتا ہوں یہ میٹنگ ہمارے باہمی تعلقات کو اور مضبوط بنے گی اور ایگریمنٹ اپنے اہداف کو پہنچے گی۔

















