سپریم کورٹ نے پنجاب الیکشن ٹربیونلز کیس میں الیکشن کمیشن کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن ٹربیونلز کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی اجازت دے دی۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ ٹربیونلز کو فعال کریں ہم کوشش کریں گے کہ جلد ہی اس کا فیصلہ سنائیں، الیکشن کمیشن ٹریبونلزکے نوٹیفکیشن کاآغازآج سےکردے، آج مختصرفیصلہ جاری نہیں ہوسکےگا، ٹریبونلزکوفعال کریں ہم کوشش کریں گےجلد ہی فیصلہ سنادیں۔
پی ٹی آئی کے وکیل کی درخواست مسترد
سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں بنچ نے پنجاب میں الیکشن ٹربیونلزکے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران سلمان اکرم راجہ کے وکیل حامد خان نے بنچ پراعتراض کرتے ہوئے اعتراض پر مبنی درخواست عدالت کو دے دی۔
چیف جسٹس پاکستان نےعدالتی عملے کو اس طرح دستاویزات وصول کرنے سے روک دیا اور کہا کہ حامد خان صاحب آپ سینئر وکیل ہیں آپ کو عدالتی طریقہ کار کا علم ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو گذشتہ پیرکا حکم نامہ پڑھنے کی ہدایت کر دی۔
پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان نے چیف جسٹس کی بنچ میں شمولیت پراعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ میں چیف جسٹس کی بینچ میں شمولیت پر اعتراض اٹھانا چاہتا ہوں، چیف جسٹس خود کو کیس سے الگ کر لیں۔ اس پرچیف جسٹس پاکستان نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس اس سے قبل چار جولائی کو فکس ہوا تھا، آپ نے خود کیس سے الگ کرنا ہے تو کر لیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان کا اعتراض مسترد کر دیا جس کے بعد حامد خان سپریم کورٹ سے واپس روانہ ہو گئے۔
الیکشن کمیشن کی یقین دہانی
سماعت کے دوران وکیل الیکشن کمیشن سکندربشیر مہمند نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمشین اورچیف جسٹس لاہورہائیکورٹ کے درمیان اتفاق رائے ہوگیا ہے، نئے قانون کے تحت پنجاب کے بقیہ چارٹربیونلز میں ریٹائر ججز تعینات ہونگے، دونوں ادارے اس وقت ایک ہی پیج پر ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پاکستان میں ہرچیز کو تنازع کیوں بنا دیا جاتا ہے، اداروں کو ان کا کام کرنے دینا چاہیے، الیکشن کمیشن کو پہلے انتخابی تنازع پر صدر کے ساتھ مشاورت کیلئے بھیجا، اب الیکشن کمشین کو لاہور ہائی کورٹ سے مشاورت کیلئے بھیجا تھا، الیکشن کمیشن اگر خود ہی ملاقات کر لیتا تو تنازع ہوتا ہی نا۔
الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو ایک ہفتے میں پنجاب ٹربیونلز کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ قانون کے مطابق نوٹیفکیشن 45 دن میں جاری ہونا لازمی ہے، الیکشن کمیشن کے پاس تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بلوچستان سے تو ٹربیونلز کے فیصلوں کیخلاف اپیلیں بھی آنا شروع ہوگئی ہیں، توقع ہے ٹربیونلز اورالیکشن کمیشن آئین کے مطابق معاملات آگے بڑھائیں گے، توقع ہے ٹربیونلز کی تعداد کیسز کے حساب سے ہی ہوگی۔
دوران سماعت چیف جسٹس کی جانب سے قاسم سوری کا تذکرہ
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ الیکشن تنازعات کا فیصلہ جلد ہونا چاہیے، ڈپٹی اسپیکرجیسے عہدے پر لوگ کئی کئی سال حکم امتناع لے کر بیٹھے رہے، میں بنچ میں نہیں تھا لیکن ایک جج نے نوٹ لکھا کہ ڈپٹی اسپیکرنے آئین شکنی کی، آج وکل وہ ڈپٹی اسپیکرانڈرگرائونڈ ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ آئین کو پڑھنے کی جسارت کوئی نہیں کرتا، آئین میں واضح ہے کہ ٹربیونل تشکیل دینا الیکشن کمیشن کا اختیارہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا اختیار چیف جسٹس کی ساتھ مشاورت سے مشروط ہے، الیکشن کمیشن کو اختیار نہیں کہ چیف جسٹس کے بھیجے ہوئے نام مسترد کر دے، الیکشن کمیشن چیف جسٹس سے ججز کا پینل بھی نہیں مانگ سکتا، تاثردیا گیا کہ مقدمہ میرے وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا ہے، حامد خان کے بیرون ملک ہونے کی درخواست آئی تھی اس وجہ سے کیس تاخیر کا شکار ہوا۔
چیف جسٹس کا سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ
چیف جسٹس نے سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے غلط خبروں پروضاحت کیوں نہیں کی؟ سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ میں ملک میں نہیں تھا اس وجہ سے کسی خبر کا علم نہیں۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ پہلے کورٹ رپورٹنگ حقائق پر ہوتی تھی اب ڈالرز کیلئے ہوتی ہے، سلمان اکرم راجہ صاحب مسئلہ حل ہوچکا اب کیا چاہتے ہیں؟ کیا آپ اپنی مرضی کے ججزسے فیصلے کروانا چاہتے ہیں؟ درخواست گزارمرضی کا جج چاہے گا تو نظام انصاف ختم سمجھیں۔
سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ مرضی کے جج سے فیصلے کا کبھی نہیں کہا، اسپر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ اداروں کے درمیان تصادم چاہتےہیں؟ سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ اداروں کے درمیان پہلے ہی تنازع ہے۔
