پی اے سی نے پی اینڈ ڈی کے پیپلز پاورٹی ریڈکشن پروگرام کے پراجیکٹ ڈائریکٹر پرویز چانڈیو کو معطل کرنے اور عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا۔
یہ فیصلہ پروگرام کے تحت سماجی تنظیم ایس آر ایس او کو دیے جانے والے 20 ارب روپے کے سالانہ فنڈز کے آڈٹ ریکارڈ کی عدم فراہمی پر کیا گیا۔
سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے سندھ کے دیہی اضلاع میں غربت مٹاؤ پروگرام کے تحت اربوں روپے کے فنڈز کے آڈٹ ریکارڈ کی عدم فراہمی پر سخت اقدامات کیے ہیں۔
اجلاس کی صدارت چیئرمین نثار احمد کھوڑو نے کی، جس میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔
سندھ ایسیلیریٹڈ ایکشن پلان کے تحت بھوک مٹاؤ پروگرام میں 1.318 ملین روپے کی رقم کا چیک وینڈر کو جاری کرنے کے بجائے براہ راست ڈی ڈی او اکاؤنٹ سے جاری کرنے پر متعلقہ ڈی ڈی او کو بھی معطل کرنے کا حکم دیا گیا۔
پی اے سی نے ایس آر ایس او کے سی ای او کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔ کمیٹی نے ایس آر ایس او کے تحت یوسی بی پی آر پی اسکیم کے لیے 2016-17 میں جاری ہونے والے 383.931 ملین روپے کی عدم واپسی پر بھی سوال اٹھایا۔
اجلاس میں انکشاف ہوا کہ سندھ حکومت کی جانب سے ایس آر ایس او کو سالانہ 20 ارب روپے فراہم کیے جاتے ہیں، جو جیکب آباد، شکارپور، کشمور، کندھ کوٹ، اور تھرپارکر سمیت 16 اضلاع میں غربت مٹاؤ پروگرام کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
تاہم، ان فنڈز کے استعمال کا مکمل ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا، جس پر پی اے سی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
“فلاحی تنظیم یا این جی اوز عوام کے لیے حکومت کی فراہم کردہ فنڈنگ پر چلتی ہیں، لہذا انہیں آڈٹ سے مستثنیٰ نہیں رکھا جا سکتا۔”
“ایس آر ایس او کو سندھ حکومت کے فنڈز سے کتنی غربت کم ہوئی اور یہ رقم کہاں خرچ ہوئی، اس کا مکمل ریکارڈ پیش کیا جائے۔”
ڈی جی آڈٹ نے بتایا کہ گرانٹ کی رقم اسی سال خرچ کی جانی چاہیے تھی، ورنہ اسے واپس کیا جانا چاہیے تھا۔ تاہم، ایس آر ایس او نے ایسا نہیں کیا۔
پی اے سی نے سیکریٹری پی اینڈ ڈی کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اجلاس میں سندھ حکومت کے غربت مٹاؤ پروگرام کے مالیاتی امور میں شفافیت کو یقینی بنانے اور فنڈز کے موثر استعمال کے لیے سخت اقدامات پر زور دیا گیا۔
