سپریم کورٹ نے پریکٹس پروسیجرآرڈیننس کیخلاف دائر درخواستیں خارج کردیں۔
چیئرمین تحریک انصاف گوہرعلی خان نے آرڈیننس کو چیلنج کیا تھا۔ افراسیاب خٹک، احتشام الحق اوراکمل باری نے آرڈیننس کیخلاف درخواستیں دائرکی تھی۔
سپریم کورٹ آئینی بینچ نے پریکٹس پروسیجرآرڈیننس کیخلاف درخواستوں کومسترد کرنے کا فیصلہ دیا۔
سماعت کے دوران جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ پریکٹس پروسیجرآرڈیننس ختم ہو چکا ہے، جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ آرڈیننس کے بعد پریکٹس اینڈ پروسیجرمیں پارلیمنٹ نے قانون سازی کردی ہے۔
وکیل درخواست گزارنے مؤقف اپنایا کہ آرڈیننس کے تحت کمیٹی کے فیصلے کو کالعدم قراردیا جائے۔ اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون آجائےتوآرڈیننس خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ آرڈیننس کے تحت بنی کمیٹی ختم ہو گئی ہے۔ کمیٹی کے فیصلوں کو پاس اینڈ کلوزٹرانزیکشزکے تحفظ ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین صدرپاکستان کو آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
