Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ڈونلڈ ٹرمپ کا چین پر نیا معاشی وار، ٹیرف 245 فیصد تک بڑھا دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے تحت چین سے درآمد کی جانے والی مصنوعات پر محصولات میں بھاری اضافہ کرتے ہوئے انہیں 245 فیصد تک کر دیا گیا ہے۔

یہ اقدام چین کی جوابی تجارتی پالیسیوں کے ردِعمل میں اٹھایا گیا ہے۔

یہ حکم نامہ 15 اپریل کو جاری کیا گیا، جسے وائٹ ہاؤس نے “لیبریشن ڈے” قرار دیا، وہ دن جب ابتدائی محصولات عائد کیے گئے تھے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک تفصیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران 75 سے زائد ممالک نے امریکہ سے نئے تجارتی معاہدوں پر بات چیت کی کوشش کی۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ چین نے جوابی وار کرتے ہوئے امریکی مصنوعات پر مزید ٹیکس عائد کیا، جس کے باعث امریکی حکومت نے اس فیصلہ کن معاشی اقدام کا فیصلہ کیا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق، یہ اقدام نہ صرف اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے ہے بلکہ قومی سلامتی کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔

تاہم، اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی وسیع پیمانے پر محصولات میں اضافہ امریکی صارفین کے لیے قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے اور عالمی سپلائی چین کو مزید دباؤ میں ڈال سکتا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ امریکہ کو عالمی تجارتی نظام سے مزید الگ کر سکتا ہے اور بین الاقوامی اقتصادی غیر یقینی صورتحال کو جنم دے سکتا ہے۔

چین کی جانب سے اس اقدام پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیجنگ ممکنہ طور پر عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کے ذریعے اس فیصلے کو چیلنج کرے گا یا جوابی اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔

ایگزیکٹو آرڈر کا اطلاق فوری طور پر ہو چکا ہے اور یہ چین سے درآمد کی جانے والی مختلف اقسام کی مصنوعات پر لاگو ہوگا۔

متاثرہ شعبہ جات اور اشیاء کی مکمل فہرست رواں ہفتے کے اختتام پر یو ایس ٹریڈ رپریزنٹیٹو آفس کی جانب سے جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version