Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چین کی امریکہ سے تجارتی معاہدے کرنے والے ممالک کو وارننگ، جوابی کارروائی کا عندیہ

چین نے ایک سخت اور دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے ان ممالک کو خبردار کیا ہے جو امریکہ کے ساتھ ایسے تجارتی معاہدوں میں شریک ہو رہے ہیں، جو بظاہر چین کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

چینی وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بیجنگ ایسے کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کرے گا جو اس کی معیشت کو متاثر کرے، اور اگر ضرورت پڑی تو مؤثر جوابی کارروائیاں کی جائیں گی۔

وزارت نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اقتصادی دباؤ، محصولات میں اضافہ اور مالیاتی پابندیوں جیسے یکطرفہ اقدامات کے ذریعے دنیا بھر کے ممالک کو چین کے ساتھ تجارتی تعلقات محدود کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔

چینی حکام نے اس طرزِ عمل کو معاشی جبر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین عالمی سطح پر ایسے اقدامات کے خلاف آواز بلند کرے گا، اور اس حوالے سے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کو بھی استعمال کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

یہ تنبیہہ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے چینی مصنوعات پر 145 فیصد تک اضافی محصولات عائد کر دیے ہیں۔

جواباً، چین نے بھی امریکی درآمدات پر 125 فیصد تک ٹیکس نافذ کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی مالیاتی منڈیاں خاصی غیر مستحکم ہو چکی ہیں۔

تجارتی کشیدگی سے جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک دباؤ کا شکار ہیں، جو دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی دوران، چین نے ہونڈوراس کے ساتھ ایک آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ پیشرفت بیجنگ کی اس پالیسی کا حصہ سمجھی جا رہی ہے، جس کے تحت وہ امریکہ کے اثر و رسوخ کا توڑ کرنے کے لیے نئے تجارتی اتحادی تلاش کر رہا ہے۔

چینی حکام کے مطابق یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو فروغ دیں گے اور باہمی مفادات کو مزید مستحکم کریں گے۔

چین نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ غیر جانبدارانہ اور منصفانہ تجارتی نظام کی حمایت کریں، تاکہ یکطرفہ فیصلوں سے عالمی معیشت کو لاحق خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں