مودی سرکار نے بھارت میں اقلیتوں بالخصوص سکھوں اور مسلمانوں کا جینا محال کردیا ہے۔
سکھ دشمن ایجنڈے کے تحت مودی سرکار نے پہلے کرتارپور راہداری کو بند کیا، اب مودی سرکار نے سکھوں پر جاسوسی کے الزامات لگا کر سکھ شہریوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے۔
کرتارپور راہداری کی بندش کے بعد مودی سرکار نے سکھوں پر سفاکانہ کریک ڈاؤن مزید تیز کرتے ہوئے سکھوں کو پاکستانی ایجنٹ ثابت کرنے کی مذموم کوششیں تیز کردی ہیں۔
مزید پڑھیں: امرت پال سنگھ کی گرفتاری پر بھارتی پنجاب میں حالات کشیدہ
مودی سرکار کی جانب سے پٹھانکوٹ سے گرداسپور تک سکھوں کو جاسوس ٹھہرانے کی مودی سرکار کی سازشیں جاری ہیں، پنجاب کے مختلف علاقوں سے 6 سکھوں کو جاسوسی کا الزام لگا کر گرفتار کرلیا ہے۔
مودی حکومت کے بڑھتے ہوئے متصبانہ رویے سے سکھ برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، سکھ رہنماؤں کی جانب سے ان کی مذہبی آزادی اور شہری حقوق پر حملوں کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔
سکھ رہنما گیانی کلدیپ سنگھ نے کہا ہے کہ کرتارپور بندش سکھوں کے مذہبی و سیاسی حقوق پر حملہ ہے، مودی حکومت مذہب کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھائے۔
