Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اسرائیل کا نیا قانون: 12 سالہ بچوں کو عمر قید، اقوام متحدہ کی شدید تشویش  

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے اسرائیل میں حالیہ منظور ہونے والے قانون پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے تحت 12 سال کی عمر کے بچوں کو بھی عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

نومبر 2024 میں اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے انسداد دہشتگردی قوانین میں ترمیم کی تھی، جس کے تحت اگر کوئی 12 سالہ بچہ قتل، اقدامِ قتل یا کسی بھی ایسے جرم میں ملوث پایا جائے جو دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہو، تو اسے عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

اس قانون کے ساتھ ایک اور ترمیم بھی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت اگر کسی بچے پر دہشتگردی سے متعلق الزام ہو، تو حکومت اس کے خاندان کو دی جانے والی سوشل ویلفیئر امداد بھی معطل کر سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قانون بچوں کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن (UNCRC) کی ممکنہ سنگین خلاف ورزی ہے، جسے اسرائیل نے 1991 میں تسلیم کیا تھا۔

ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق 18 سال سے کم عمر افراد کو کم از کم سزا کا حق حاصل ہے، اور ان کے ساتھ اصلاحی انداز میں برتاؤ ہونا چاہیے، نہ کہ سخت سزائیں دی جائیں۔

اقوام متحدہ نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ یہ قانون خاص طور پر فلسطینی بچوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، کیونکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں پہلے ہی 12 سالہ فلسطینی بچوں کو اسرائیلی فوجی قوانین کے تحت جیل بھیجا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے عالمی معیار اور بچوں کے تحفظ سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔

ماہرین نے زور دیا ہے کہ ان قوانین پر نظرِ ثانی کی جائے اور بچوں کو اصلاحی نظام انصاف کے دائرے میں لایا جائے۔ماہرین کے مطابق، نیا قانون امتیازی سلوک کو مزید تقویت دے گا۔

متعلقہ خبریں